Al-Risala · February 2019 · page 16

سر داد نداد دست در دست یزید

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۶

کوئی بکری کبھی اس طرح بھیڑیے سے لڑ کر اپنی جان نہیں دیتی۔ بکری کا طریقہ بھیڑیے سے ٹکراؤ کو اوائڈ کرنا ہے نہ کہ جان بوجھ کر اس سے لڑ جانا۔ اس فرضی کہانی کو اس کے مصنف نے الموڑا کے ایک واقعہ کے طور پر پیش کیا ہے، مگر اس کا تعلق نہ حقیقۃً سے ہے اور نہ اسلام سے۔ کسی بکری نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ وہ رات بھر بھیڑیے سے لڑے اور اس طرح جان بوجھ کر اپنے کو ہلاک کردے۔ کہانی کی مذکورہ بکری ڈاکٹر ذاکر حسین کی مفروضہ بکری ہے، وہ نہ کسی ابوخاں کی بکری تھی اور نہ خدا نے کبھی کسی ایسی بکری کو پیدا کیا۔

اسلامی نقطہ نظر سے دیکھئے تو اس قسم کی لڑائی سراسر نا جائز ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، یہ تو ممکن ہے کہ کوئی شخص اچانک کسی طاقتور دشمن کی زد میں آجائے اور قتل کرنے والا اس کو قتل کردے۔ مگر جان بوجھ کر ایک ایسے دشمن سے ٹکرانا بلا شبہ غلط ہے جس سے مقابلہ کرنے کی طاقت آدمی کے اندر نہ ہو اور جس کا یقینی نتیجہ یک طرفہ تباہی ہو۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: لا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ، وَسَلُوا اللهَ العَافِيَةَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2965) یعنی تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور تم اللہ سے عافیت مانگو۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کا ٹکراؤ خود کشی ہے، اور خود کشی اسلام میں جائز نہیں۔ لوگ اکثر ایک مہلک غلطی میں مبتلا رہتے ہیں۔ وہ بطور خود ایک مفروضہ ماڈل بناتے ہیں اور پھر اس مفروضہ ماڈل کے ذریعہ ایک ایسے عمل کو جسٹی فائی (justify) کرنے لگتے ہیں جو حقیقت قابل جواز (justifiable) نہیں ۔ اس کی ایک مثال امام حسین کے معاملہ میں ملتی ہے۔ خطیبوں اور شاعروں نے امام حسین کا ایک خود ساختہ ماڈل بنایا ۔ وہ ماڈل یہ تھا کہ امام حسین نے اپنا سر کٹوادیا مگر وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیار نہیں ہوئے :

سر داد نداد دست در دست یزید

یہ شاعروں اور خطیبوں کا اپنا بنایا ہوا ماڈل ہے ورنہ تاریخ میں جو تصویر ملتی ہے وہ برعکس طور پر یہ ہے کہ امام حسین جب مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تو ان کا کوئی ارادہ لڑائی کا نہ تھا۔ اس وقت یزید دمشق میں تھا اور امام حسین اس سے بہت دور کوفہ کی سرحد پر تھے۔ کوفہ میں متعین فوج نے یزید کے حکم کے بغیر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page