سر داد نداد دست در دست یزید
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۷
بطور خود امام حسین کو گھیر کر ان کو لڑنے پر مجبور کر دیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس وقت امام حسین نے وہاں کے فوجی افسر سے کہا کہ تم مجھ کو جنگ پر مجبور نہ کرو بلکہ میری طرف سے تین باتوں میں سے کوئی ایک اختیار کرلو، یا تو میں وہاں واپس چلا جاتا ہوں، جہاں سے میں آیا ہوں، یا مجھے یزید کے پاس لے چلو، اور میں یزید کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دوں گا، پھر دیکھیں گے کہ میرے اور یزید کے درمیان کیا رائے بنتی ہے (وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَيَرَى فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَأْيَهُ)، یا تم مجھے مسلمانوں کی سرحدوں میں سے کسی سرحد پر لے چلو، میں انھیں میں سے ایک بن جاؤں گا، پھر جو حق ان کا ہوگا، وہ میرا ہوگا، اور جو ذمے داری ان کی ہوگی، وہ میری ہوگی۔ (تاریخ طبری، جلد 5، صفحہ 413 ؛ الکامل فی التاریخ، جلد 3، صفحہ 164)۔
معلوم ہوا کہ امام حسین کا وہ ماڈل فرضی ماڈل ہے جس کو نام نہاد مجاہدین اپنی جنگی کارروائیوں کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی نے پاکستان میں اسلام کے نام پر ٹکراؤ کی سیاست چلائی جو یقینی طور پر غیر اسلامی سیاست تھی۔ اس کے لیے انہوں نے امام حسین کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حسین کے نمونہ کو چھوڑ دیا جائے تو نمونہ کہاں سے آئے گا۔ اس اصول کے مطابق، شاید ڈاکٹر ذکر احسین بھی یہ کہیں کہ اگر ابو خاں کی بکری نہ ہوتی تو لڑ کر مر جانے کا نمونہ کہاں سے آتا۔ فرضی ماڈل کو اپنے غلط اقدام کے لیے جواز بنانا ایک عام برائی ہے۔ مگر وہ ایک مہلک عمل ہے۔ جو لوگ اس قسم کا طریقہ اختیار کریں ان کے اندر ایک بے حد کمزور شخصیت پرورش پاتی ہے۔ ایسے لوگ کبھی اعلیٰ ربانی حقائق کا تجربہ نہیں کر سکتے۔
فرضی ماڈل کو نمونہ بنانے کی ایک مثال حضرت ابراہیم کے بارے میں اقبال کا یہ شعر ہے: بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی اصل واقعہ کے مطابق، حضرت ابراہیم خود سے آگ میں نہیں کودے تھے بلکہ ان کے مخالفین نے جارحیت کر کے انہیں آگ میں ڈالا تھا (الانبیاء، 68)۔ مگر اقبال نے حضرت ابراہیم کا ایک فرضی ماڈل بنایا اور پھر اس فرضی ماڈل کے حوالہ سے قوم کو للکارتے ہوئے کہا:
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues