Al-Risala · February 2019 · page 18

جنت کی دریافت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۱۸

جنت کی دریافت

غالباً 1983 کی بات ہے۔ اُس وقت دہلی میں ایک انگریز مسٹر جان بٹ (John Butt) رہتے تھے۔ انہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی تھیں، اور میری فکر سے کافی مانوس ہو چکے تھے۔ ملاقات کے دوران ایک بار میں نے اُن سے کہا کہ قلم میری محبوب چیز ہے۔ میں نے بہت سے قلم استعمال کیے مگر مجھے اپنی پسند کا قلم ابھی تک نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میں جلد ہی لندن جانے والا ہوں، وہاں سے میں آپ کے لیے ایک اچھا قلم لے آؤں گا۔

کچھ عرصہ کے بعد وہ مجھ سے ملے اور انگلینڈ کا بنا ہوا ایک قلم مجھے دیتے ہوئے کہا کہ میں نے لندن اور آکسفورڈ کی مارکیٹ میں کافی تلاش کے بعد یہ قلم (فاؤنٹین پین) حاصل کیا ہے۔ تاہم مجھے امید نہیں کہ یہ قلم آپ کی پسند کے مطابق ہوگا۔ میں نے کہا، کیوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ آپ ایک پرفیکشنسٹ (perfectionist) ہیں اور دنیا میں چونکہ کوئی بھی قلم پرفیکٹ قلم نہیں، اس لیے آپ کو کوئی بھی قلم پسند نہیں آئے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی پیدائشی طور پر پرفیکشنسٹ ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان ایک کمال پسند حیوان ہے:

Man is a perfection-seeking animal.

انسانی فطرت کا یہی خاص پہلو ہے جس کی بنا پر ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ محرومی کے احساس میں جیتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو دنیا کا ہر سامان حاصل کر لیتے ہیں، وہ بھی محرومی کے احساس سے خالی نہیں ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے پرفیکشنسٹ ہے مگر جس دنیا میں وہ رہتا ہے اُس کی کوئی بھی چیز پرفیکٹ نہیں۔ اس طرح انسان کی طلب اور دنیا کی قابلِ حصول چیزوں کے درمیان ایک عدم مطابقت (incompatibility) پیدا ہوگئی ہے۔ دونوں کے درمیان یہی عدم مطابقت انسان کے اندر محرومی کے احساس کا اصل سبب ہے۔

انسان اپنی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے دنیا میں جدوجہد شروع کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page