Al-Risala · February 2019 · page 26

ایک عام غلطی

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۶

ایک عام غلطی

مصر کی الاخوان المسلمون کے لیڈر ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے پانچویں منتخب صدر تھے۔ وہ یکم جولائی 2012 کو مصر کے صدر منتخب ہوئے، تاہم ایک سال مکمل ہونے سے پہلے ہی پورے ملک میں ان کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے، جس کے بعد جولائی 2013 میں مصری افواج نے انہیں اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ بوقت تحریر (10 جولائی 2018) وہ مصر کی جیل میں ہیں۔ بحیثیت صدر انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: أصبت أحيانا وأخطأت أحيانا أخرى (2013 Sky News Arabia, published on June)۔ یعنی میں نے کبھی درست کام کیا، اور کبھی میں نے غلطی کی۔ یہ تقریر ابھی بھی یوٹیوب پر موجود ہے۔ غلطی کیا تھی، جو ان کے زوال کا سبب بنی۔ یہ دراصل کچھ ایسے اقدامات تھے، جو مصری فوج کے مفاد (interest) کے خلاف تھے۔ مثلاً سوئز کنال کی توسیع کے بارے میں فوجی حکومت کے دور میں کچھ کمپنیوں کو ٹھیکے دیے گئے تھے۔ ان ٹھیکوں کو ڈاکٹر مرسی نے قابل اعتراض سمجھا۔ چنانچہ انھوں نے ٹھیکوں کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر مرسی اور فوجیوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فوج نے قبل از وقت ان کی صدارت کا خاتمہ کر دیا۔ غلطی کی وہ قسم ہے، جو اکثر ارباب اقتدار کرتے ہیں۔ پولیکل اقتدار میں آنے سے پہلے، ان کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوراً اپنے ایجنڈے کو عمل میں لانا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ حکمت کے خلاف ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اس معاملے میں جلدی نہ کی جائے۔ کچھ نازک چیزوں کو نا تمام ایجنڈا (unfinished agenda) کے طور پر چھوڑ دیا جائے۔ مگر اکثر ارباب اقتدار اس معاملے میں غلطی کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حالات خراب ہو جاتے ہیں، اور قبل از وقت ان کو اقتدار سے محروم ہو جانا پڑتا ہے، اور پھر ایک فریق دوسرے فریق کو الزام دینا شروع کر دیتا ہے۔ حالاں کہ قرآن کی ایک آیت (الحج 22:28) میں اس معاملے کے لیے رہنمائی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page