ایک عام غلطی
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۲۷
موجود ہے۔ وہ رہنمائی کیا ہے۔ اس کی ایک مثال پیغمبر اسلام نے عملاً پیش کی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو 8 ہجری میں مکہ کا اقتدار ملا۔ اس وقت کعبہ کی عمارت میں ایک مسئلہ موجود تھا۔ وہ یہ کہ کعبہ کا تقریباً دو تہائی حصہ مسقف (covered) تھا، یہ کعبہ کی موجودہ عمارت ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک تہائی حصہ غیر مسقف (non-covered) پڑا ہوا تھا، جس کو حطیم کہا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے غیر مسقف حصے کو بھی مسقّف بنانے کا مشورہ دیا، لیکن رسول اللہ نے ایسا نہیں کیا، اور غیر مسقف حصے کو بدستور ایز اٹ از (as it is) چھوڑ دیا کیوں کہ ایسا کرنا اہل مکہ کو ناپسند ہوسکتا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1584)۔
کعبہ کی عمارت کا یہ معاملہ رسول اللہ کی ایک حکیمانہ سنت کو بتاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ زندگی میں کچھ چیزوں کو نا تمام ایجنڈے کے طور پر چھوڑنا پڑتا ہے، خواہ آدمی کو مکمل اقتدار ملا ہوا ہو۔ یہ اجتماعی زندگی کی ایک اہم حکمت ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ لوگوں نے اس واقعے سے سبق نہیں لیا۔ ہر آدمی اقتدار پانے کے بعد اپنے ایجنڈے کو فوراً مکمل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگرچہ اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ایجنڈے کو مکمل تو نہیں کر پاتا، البتہ اس کے اقتدار کا قبل از وقت خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کی مثالیں تاریخ میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک مثال پاکستان کی تاریخ میں ہے ۔ 1947 میں جب پاکستان بنا، تو شیخ مجیب الرحمن مسلم لیگ کی جماعت میں شامل تھے۔ لیکن محمد علی جناح نے 21 مارچ 1948 کو یہ اعلان کیا کہ اردو پورے پاکستان (بشمول ایسٹ پاکستان) کی قومی زبان ہوگی ۔ شیخ مجیب الرحمن اپنے بنگالی ذوق کے مطابق اس اعلان کے سخت خلاف ہوگئے، وہ مسلم لیگ سے الگ ہوگئے، اور ایک علاحدہ ملک کی تحریک چلائی، جو آخر کار اس پر منتج ہوئی کہ مشرقی پاکستان، پاکستان سے ٹوٹ کر نیا ملک (بنگلہ دیش) بن گیا۔ نا تمام ایجنڈے پر راضی ہونا، ایک پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) ہے۔ اجتماعی زندگی کی یہ ایک اہم حکمت ہے۔ اس حکمت کے بغیر کوئی شخص بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ جیسا کہ کعبہ میں حطیم کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues