فریم ورک کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۲
ایک خط
ایک عالم دین اپنے خط میں لکھتے ہیں: میں ابھی سری لنکا کے سفر سے واپس ہوا ہوں۔ اس دوران وہاں کے دینی مدارس کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ میں نے یہ دیکھا کہ سری لنکا کے دینی مدارس کے نصاب میں شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ شامل نہیں ہے۔ مگر ہندوستان کے مدارس میں اس کتاب کو اہمیت کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے۔ واپسی کے بعد اس کتاب کے تعلق سے میری گفتگو ہندوستان کے ایک بزرگ عالم دین سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اس تعلق سے میری رائے یہ ہے کہ حجۃ اللہ البالغہ کو ہندوستان کے مدارس میں شاہ صاحب کی عقیدت میں پڑھایا جاتا ہے۔ میں ذاتی طور پر شاہ صاحب کی اُس توجیہہ کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ طلبہ کو پڑھاتا ہوں، جو انھوں نے امت میں موجود اختلافات کے تعلق سے بیان کی ہیں، مثلاً مقلدین اور غیر مقلدین کے مسائل۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو کچھ بھی نہیں سمجھتے، تو شاہ صاحب نے دونوں کے درمیان اعتدال قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے مجھے یہ نقطۂ نظر پسند ہے۔ اس کے علاوہ ان کا یہ خیال کہ اسرار شریعت سے لوگوں کو واقف کرایا جائے، تو اسرار شریعت میں انھوں نے تکلف کیا ہے، مجھے اس سے زیادہ اتفاق نہیں۔ اس باب میں میری رائے یہ ہے کہ یہ ناممکن بات ہے کہ آپ ہر ایک حکم کی علت پیش کریں، جیسے پانچ وقت کی نمازوں میں رکعات کیوں مختلف ہیں ، سری اور جہری نمازیں کیوں ہیں، وغیرہ۔ ایسی تمام باتوں سے پچاس فیصد ہی اتفاق کیا جاسکتا ہے، مجھے ذاتی طور پر ان باتوں سے دلچسپی نہیں ہے۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی)
الرسالہ: شاہ ولی اللہ صاحب کی کتاب کا ٹائٹل ”حجۃ اللہ البالغہ“ قرآن کی ایک آیت سے لیا گیا ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ (6:149) ۔ یعنی کہو کہ حجت بالغہ تو اللہ کی ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ الحجۃ البالغہ سے مراد کس قسم کے دلائل ہیں۔ قرآن کے دوسرے مقامات کا مطالعہ کرنے سے معلوم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues