خروج کا مسئلہ
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۵
خروج کا مسئلہ
خروج کا لفظی مطلب ہے نکلنا (going out) ۔ اصطلاحی طور پر اس کا مطلب ہے سیاسی بغاوت۔ یعنی کسی قائم شدہ حکومت کے اقتدار کو نہ ماننا، اور اس کو بدلنے کی کوشش کرنا، پولیٹکل اپوزیشن کی تحریک چلانا۔ خروج یا بغاوت اسلام میں حرام ہے، اور اس پر تمام علمائے امت کا اجماع ہے۔ رسول اللہ کی وفات کے بعد مسلم دنیا میں شوریٰ پر مبنی خلافت شروع ہوئی۔ یہ طرز حکومت تقریباً تیس سال تک جاری رہا۔ اس کے بعد معاویہ بن ابوسفیان (وفات: 60) کا دور آیا۔ امیر معاویہ ، علی بن ابی طالب (وفات: 40ھ) کے بعد امیر المومنین بنے۔ امیر معاویہ کو دَاهِيَةُ الْعَرَب کہا جاتا تھا، یعنی اعلیٰ فراست کا انسان۔ امیر معاویہ کو اموی سلطنت (Umayyad Empire) کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے پہلی بار مبنی بر شوریٰ خلافت کے بجائے مبنی بر خاندان حکومت (dynasty) کا نظام قائم کیا۔ کچھ لوگ اس کو ملوکیت کا دور کہتے ہیں، لیکن اس کا ایک مثبت پہلو ہے، اور وہ یہ ہے کہ اس کے بعد اسلامی دنیا میں سیاسی استحکام (political stability) کا دور آیا، جو نشیب و فراز کے ساتھ برابر جاری رہا، اور اب بھی عرب ریاستوں میں جاری ہے۔
سمجھا جاتا ہے کہ امیر معاویہ اسلامی دور کے وہ شخص ہیں، جنھوں نے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کیا۔ مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان کو اسلام کی سیاسی تاریخ میں ٹرینڈ سیٹر (trendsetter) کا درجہ حاصل ہوا۔ امیر معاویہ نے شورائی خلافت کو خاندانی حکومت (dynasty) میں تبدیل کیا تھا، اور تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے بعد یہی طرزِ حکومت بعد کے پورے اسلامی دور میں باقی رہا۔ اس اعتبار سے امیر معاویہ کو اسلامی تاریخ میں ٹرینڈ سیٹر کا درجہ حاصل ہے۔
اس معاملے کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ امیر معاویہ کے اس ’’اجتہاد‘‘ کو پوری امت نے تسلیم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues