Al-Risala · February 2019 · page 36

خروج کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۶

کر لیا۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین ،فقہاء، اور تمام علمائے متقدمین نے اس کو بلا اختلاف مان لیا، حتی کہ ان کے اس اجتہاد کو اجماع امت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ اس معاملے میں علمائے امت کی نمائندگی کرتے ہوئےشارح مشکاۃ المصابیح شرف الدین الحسین بن عبد اللہ الطیبی ( وفات: 743ھ) اس موضوع کے تحت کلام کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

وأما الخروج عليهم وتنازعهم فمحرم بإجماع المسلمين، وإن كانوا فسقة ظالمين. وأجمع أهل السنة على أن السلطان لا ينعزل بالفسق ؛ لتہیج الفتن في عزله وإراقة الدماء وتفرق ذات البين، فتكون المفسدة في عزله أكثر منها في بقائه ( الكاشف عن حقائق السنن، 8/2560 )۔ یعنی اور جہاں تک خروج ( بغاوت ) کی بات ہے، اور ان سے نزاع کرنا، وہ حرام ہے، اور اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے، خواہ وہ فاسق اور ظالم ہو، اور اس پر اہل سنت نے اجماع کیا ہے کہ سلطان کو فسق کی بنا پر معزول نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ اس کی معزولیت کی وجہ سے فتنے اٹھتے ہیں، اور خون بہتا ہے، اور (مسلمانوں میں) باہمی اختلاف پیدا ہوتا ہے، تو اس کی معزولیت پر ہونے والا نقصان اس کے باقی رہنے سے زیادہ ہے۔

علمائے امت کا یہ اجماع محض اتفاق کے طور پر نہیں ہے، بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر نہایت صراحت کے ساتھ پیشگی طور پر اس کا حکم دیا تھا۔ حدیث کی کتابوں میں کتاب الفتن میں اس طرح کی روایتیں کثرت سے دیکھی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر یہاں تین روایتیں نقل کی جاتی ہیں : تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ، وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ، وَأَخْذَ مَالَكَ، فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1847 )۔ یعنی آپ نے کہا کہ سنو اور اطاعت کرو، خواہ وہ تمھاری پیٹھ پر مارے، اور تمھارا مال چھین لے، سنو اور اطاعت کرو۔

ایک دوسری روایت یہ ہے : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثْرَةً وَأُمُوراً تُنْكِرُونَهَا، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052 )۔ یعنی عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page