روحِ دین
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۰
روحِ دین
ایک سفر کے دوران مجھے ایک ایسے ملک میں جانا پڑا جہاں پہلے بادشاہی نظام تھا۔ اب بادشاہ کا خاتمہ ہوا گیا۔ اب وہاں صدر راج قائم ہے۔ قدیم شاہی محل کی تمام شان و شوکت باقی ہے۔ البتہ اب اس کو شاہی محل کے بجائے صدارتی محل کہا جاتا ہے۔
میں اور کانفرنس کے دوسرے شرکاء صدر مملکت سے ملاقات کے لیے صدارتی محل میں لے جائے گئے۔ ہم لوگ جب اس پر ہیبت عمارت میں داخل ہوئے تو میں نے دیکھا کہ ہر آدمی کا انداز اچانک بدل گیا ہے۔ لوگوں پر خاموشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ ان کی رفتار سست پڑگئی۔ چہرے پر سنجیدگی کے آثار ظاہر ہو گئے ۔ محل کی ہر چیز کو وہ پُر رعب نظروں سے دیکھنے لگے۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، وہ بھی خدا کا ایک عظیم محل ہے۔ اس میں ہر طرف خدا کی عظمت و قدرت کے جلوے نمایاں ہیں۔ اس خدائی محل کے اندر چلتے ہوئے مزید اضافے کے ساتھ آدمی پر وہ کیفیت طاری ہونا چاہیے جو کسی شاہی محل کے اندر چلتے ہوئے اس کے اندر طاری ہوتی ہے۔
مگر جب میں دنیا کے راستوں میں لوگوں کو چلتے ہوئے دیکھتا ہوں تو یہ محسوس کر کے میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ یہاں لوگ اس طرح چل رہے ہیں گویا کہ انھیں اس عظیم حقیقت کی کوئی خبر ہی نہیں۔ لوگوں کے چہروں پر خشوع جھلکتا ہو نظر نہیں آتا جو از روئے واقعہ ان کے چہروں پر جھلکنا چاہیے۔ لوگوں کے چہروں پر مجھے احتیاط کے بجائے غفلت نظر آتی ہے۔ ان کی چال تواضع کے بجائے سرکشی کی چال معلوم ہوتی ہے۔ ان کے انداز پر ذمہ داری کے بجائے بے حسی کا غلبہ دکھائی دیتا ہے۔ خدا کی دنیا میں چلتے ہوئے لوگ اتنا سنجیدہ بھی نظر نہیں آتے جتنا کہ کوئی شخص کسی ایوان صدارت یا کسی قصر شاہی میں چلتے ہوئے نظر آتا ہے۔
جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ انسانی محل میں چلتے ہوئے ان پر ہیبت طاری ہو مگر خدائی محل میں چلتے ہوئے ان پر ہیبت طاری نہ ہو وہ خدا کی رحمت سے آج ہی دور ہو گئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues