prima facie it stands rejected
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۳۹
میں امت کے رہنماؤں نے اس حکیمانہ تعلیم کو چھوڑ دیا، اور اپنے حکمرانوں سے سیاسی نزاع کا طریقہ اختیار کر لیا، اس کے نتیجے میں ان کی تمام کوششیں حبطِ اعمال (الکہف، 18:105) کا شکار ہوگئیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم اعلیٰ حکمت (great wisdom) پر مبنی تھی۔ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ سیاسی معاملات میں نزاع کا طریقہ ہمیشہ بے نتیجہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، سیاسی معاملے میں غیر نزاعی طریقہ ہمیشہ کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ ایسا فطرت کے مسَلّم قانون کی بنا پر ہوتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور اس معاملے میں کسی کے لیے بھی کوئی استثناء نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو جو ہدایت دی تھی، وہ بظاہر ایک مذہبی ہدایت تھی، لیکن وہ فطرت کے قانون پر مبنی ایک ہدایت تھی۔ اسی حقیقت کو جرمنی کے مدبر سیاست داں بسمارک (1815-1898) نے اس طرح کہا تھا کہ سیاست ممکنات کا فن ہے:
Politics is the art of the possible, the attainable, the art of the next best. فطرت کے قانون پر مبنی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل وزڈم کا حصول ممکن نہیں۔ یہاں کسی کے لیے آئیڈیل وزڈم کا انتخاب ممکن نہیں ہے، بلکہ یہاں ہر ایک کے لیے پریکٹیکل وزڈم کا انتخاب ہے۔ کوئی شخص تصوراتی طور پر آئیڈیل کو اپنا گول بنا سکتا ہے۔ لیکن جب معاملہ کسی نشانے کو عملی صورت میں ظہور میں لانے کا ہو تو ہر ایک کے لیے صرف پریکٹیکل وزڈم کا انتخاب ممکن ہوتا ہے، نہ کہ آئیڈیل وزڈم کا انتخاب۔
********
امریکا میں کئی ایسے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی جو نظامِ خلافت کی باتیں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ نظامِ خلافت کی باتیں کرتے ہیں، مگر عملاً وہ نظامِ منافقت پر قائم ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ واقعۃً نظامِ خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے آپ امریکا کی شہریت کو ختم کر دیجئے ۔ کیوں کہ شہریت کے فارم پر دستخط کرنے کے بعد اس قسم کی باتیں کرنا اگر بالاعلان ہو تو وہ ملک سے غداری ہے، اور اگر اعلان کے بغیر ہو تو وہ منافقت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues