Al-Risala · February 2019 · page 43

دعا کی قبولیت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۳

دعا کی قبولیت

غالباً 1965ء میں میں اعظم گڑھ سے کانپور گیا تھا۔ کانپور میں میرے ایک مدرسے کے ساتھی تھے، ان کا نام تھا، مرزا امتیاز بیگ اصلاحی۔ اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔ کانپور کے اس سفر میں میں مرزا امتیاز بیگ اصلاحی کے یہاں چند دن ٹھہرا۔ یہاں قیام کے دوران انھوں نے اپنا ایک ذاتی واقعہ بتایا، جو بہت سبق آموز تھا، اور یہ واقعہ اب تک مجھے یاد ہے۔

مرزا امتیاز بیگ اصلاحی اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔ کانپور میں انھوں نے چمڑے کا بزنس شروع کیا تھا۔ پہلے وہ یہاں ایک مکان میں کرائے پر رہتے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد مالک مکان نے مکان خالی کرنے کے لیے کہا۔ انھوں نے کوشش کی کہ دوسرا کوئی مکان کرائے پر مل جائے، مگر کافی کوشش کے باوجود ان کو کانپور میں دوسرا کوئی مکان کرائے پر نہیں ملا۔ ان کا یہ مالک مکان ایک ہندو تاجر تھا۔ وہ روزانہ اس کے پاس جاتے، اور کہتے کہ میرے پاس کوئی دوسرا مکان نہیں ہے، اس لیے آپ مجھے اس مکان میں رہنے دیں۔ لیکن مالک مکان کسی طرح راضی نہیں ہوتا تھا۔ وہ روزانہ مالک مکان کو راضی کرنے کی کوشش کرتے، لیکن اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ آخر کار ایک دن اس نے الٹی میٹم کی زبان میں کہہ دیا کہ آپ میرے مکان کو خالی کر دیں، ورنہ میں آپ کے خلاف قانونی کارروائی کروں گا۔

یہ سن کر مرزا امتیاز بیگ اصلاحی مایوسی کے عالم میں واپس آگئے۔ اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اللہ سے دعا کریں۔ اس رات کو انھیں نیند نہیں آئی، وہ رات کے اکثر اوقات دعا کرتے رہے۔ انھوں نے اللہ سے کہا: خدایا، میرے پاس تو کوئی گھر نہیں ہے، میں کل کہاں جاؤں۔ اسی طرح کی دعاؤں میں رات گزر گئی ۔ اگلے دن صبح کو وہ پھر مالک مکان کے پاس گئے۔ جب وہ اس کے دروازے پر پہنچے تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا، جو ان کی توقع کے بالکل خلاف تھا۔ انھوں نے دیکھا کہ مالک مکان اور اس کی بیوی دونوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اُن پر نظر پڑتے ہی

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page