دعا کی قبولیت
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۴
مالک مکان بولا۔ مرزا صاحب آیئے، ہم تو آپ ہی کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر مالک مکان نے خلاف توقع کہا: ہمارے پاس ایک اور مکان ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال ہم اس کو استعمال کریں گے۔ اس درمیان آپ کوئی مکان تلاش کر لیجیے۔ جب مکان مل جائے، تو آپ ہمارے مکان کو ہمارے استعمال کے لیے چھوڑ دیجیے۔
یہ ایک سچا واقعہ ہے، جس کو خود صاحب واقعہ نے براہ راست طور پر مجھ سے بیان کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بندے کو ہمیشہ سچی اسپرٹ کے ساتھ دعا کرنی چاہیے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (27: 62)۔ یعنی کون ہے جو بے بس کی پکار کو سنتا ہے اور اس کے دکھ کو دور کر دیتا ہے۔ اگر بندہ اس اسپرٹ کے ساتھ دعا کرے تو عین ممکن ہے کہ اللہ اس کی دعاؤں سے فریق ثانی کے دل کو بدل دے، اور اس کا انکار اقرار میں تبدیل ہو جائے۔
تاریخ میں اس قسم کی قبولیت دعا کے واقعات ملتے ہیں۔ مثلاً قدیم مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیمانے پر دعوت کا کام کیا۔ وہاں بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ لیکن عمر بن الخطاب آپ کے مخالف بنے رہے۔ یہاں تک کہ روایت میں آیا ہے کہ ایک صحابی، عامر بن ربیعہ اپنی بیوی، لیلیٰ بنت ابی حشمہ کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کر رہے تھے کہ عمر بن الخطاب کا وہاں سے گزر ہوا۔ عمر نے ماجرا پوچھا، انھوں نے جواب دیا کہ تم لوگ ہمیں ستاتے ہو، اس لیے ہم شہر چھوڑ کر جا رہے ہیں، عمر نے کچھ ہمدردی کے الفاظ کہے۔ یہ سن کر عامر بن ربیعہ نے کہا: کیا تم امید کرتی ہو کہ عمر اسلام قبول کر لے گا، لیلیٰ نے کہا: ہاں، تو عامر نے جواب دیا: خدا کی قسم، خطاب کا گدھا اسلام قبول کر سکتا ہے، لیکن عمر نہیں کرے گا (وَاللهِ لَا يُسْلِمُ حَتَّى يُسْلِمَ حِمَارُ الْخَطَّابِ) ۔ المعجم الکبیر للطبرانی، 25/29/47۔ مگر رسول اللہ عمر بن الخطاب سے مایوس نہیں ہوئے، اور آپ نے دعا کی: اَللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ (مسند احمد، حدیث نمبر 4362)۔ یعنی اے اللہ تو عمر کے ذریعے اسلام کی تائید کر۔ اس کے بعد خود عمر بن الخطاب نے اسلام قبول کر لیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues