Al-Risala · February 2019 · page 47

غیر واقعی عذر

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۷

غیر واقعی عذر

ایک صاحب نے کہا کہ میرے اندر کام کرنے کا بہت جذبہ ہے، لیکن جب میں کوئی کام شروع کرتا ہوں تو درمیان میں کچھ ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں، جس کی وجہ سے مجھے اس کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسی حالت میں کام کس طرح کروں۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو لوگ اس قسم کی بات کرتے ہیں، ان کا کیس عذر کا کیس نہیں ہے، بلکہ ارادے(will power)کے نہ ہونے کا کیس ہے۔ ایسے لوگوں کے اندر ارادے کی طاقت موجود نہیں ہوتی۔ البتہ کام کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں کوئی کام صرف شوق کی بنیاد پر نہیں ہوتا ہے، بلکہ طاقتور ارادے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ حقیقی ارادہ یہ ہے کہ آپ جانیں کہ آپ کو کیا کرنا ہے۔ آپ کے کام کی راہ میں کس قسم کی صلاحیت درکار ہے۔ آپ کو کن رکاوٹوں سے لڑ کر اپنے کام کو آگے بڑھانا ہے۔ آپ کے اندر سابقہ کنڈیشننگ کی وجہ سے وہ کون سی کمزوریاں ہیں، جن کو دور کرنا ضروری ہے، ورنہ آپ عذرات میں پھنسے رہیں گے، اور جو کام آپ کرنا چاہتے ہیں، اس میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

اصل یہ ہے کہ ہر کام سب سے پہلے منصوبہ بندی(planning)چاہتا ہے۔ منصوبہ بندی یہ ہے کہ آپ اپنے کام کے تمام پہلوؤں اور اس کے مالہ و ما علیہ کو جانیں، آپ پیشگی طور پر یہ جانیں کہ آپ محض شوق کے طور پر یہ کام کرنا چاہتے ہیں، یا آپ اس کے لیے ضروری قربانی دینے کو تیار ہیں۔ آپ صرف باتیں بنانے والے آدمی ہیں، یا آپ کے اندر پختہ عزم کی طاقت موجود ہے۔ آپ دوسروں کو الزام دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں، یا آپ عذر میں خود اپنی کمی کو دریافت کر کے اس کی اصلاح کے لیے تیار ہیں۔ جو لوگ مذکورہ قسم کی باتیں کرتے ہیں، وہ دراصل وہ لوگ ہیں، جو ہر مسئلے کا ذمے دار دوسرے کو قرار دے کر مطمئن ہو جاتے ہیں، ان کے اندر یہ ہمت نہیں ہوتی کہ اپنی کمزوریوں کو دریافت کریں، اور اپنی کمزوریوں کو ڈھونڈ کر اپنے منصوبہ کو آگے بڑھائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page