Al-Risala · February 2019 · page 50

خبر نامه اسلامی مرکز - 266

الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۵۰

فکر کے ساتھ نا انصافی ہے۔ مولانا کی تحریر نے مجھے احساس دیا کہ اگر میں کسی کی طرف ایک انگلی اٹھاتا ہوں تو باقی انگلیوں کا رخ میری طرف ہوتا ہے۔ پہلے مجھے اپنے آپ کو ٹھیک کرنا ہے۔ کامیابی کوئی خارجی چیز نہیں ہے ، یہ داخلی معاملہ ہے۔ کامیاب وہ نہیں ہے، جو دوسروں کا سر کاٹ لے، کامیاب وہ ہے جو دوسروں کے دلوں کو جیت لے ۔ مولانا کی تحریر سے مجھے معلوم ہوا کہ میں صرف لڑنے کی اہمیت کو جانتا ہوں ، امن اور صلح کی اہمیت سے بے خبر ہوں، جب کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم امن کے لیے حدیبیہ میں فریق مخالف کی تمام ثمرائط کو یک طرفہ طور پر تسلیم کر لیتے ہیں، تا کہ کسی طرح امن قائم ہو جائے ۔ میں اُن کا امتی ہو کر بھی امن کی اہمیت سے بے خبر تھا۔ یہ مولانا کی تحریروں کا فیض تھا کہ میرے لیے امن (peace) کی اہمیت اجا گر ہوئی۔ اسی طرح مولانا سے یہ بھی سیکھا کہ اللہ بتانے سے نہیں ملتا، اللہ کو ذاتی طور پر تلاش (discover) کرنا پڑتا ہے۔ جب داخلی طور پر اللہ کی دریافت ہوتی ہے، تو پھر ایمان و یقین شر بار ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے ارد گرد مظاہرِ فطرت پر غور کرو۔ پھر اللہ کی موجودگی کا احساس اندر سے پیدا ہوگا۔ اسی طرح مولانا کی کتاب ”فکرِ اسلامی“ جب میں نے پڑھی، یقین جانیے میری تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس میں مولانا نے بڑی بڑی اسلامی قداور شخصیات کے فکر و نظریات پر قلم اٹھایا تھا۔ پہلے پہل تو میں ہکا بکا رہ گیا۔ لیکن جب ٹھنڈے دل سے غور کیا تو مولانا کے نقطہ نظر میں مجھے توازن نظر آیا، ہم پچھلے کئی سو سال سے خوار ہو رہے ہیں۔ اس کی آخر کوئی تو وجہ ہوگی۔ کہیں تو ہم سے چوک ہوئی ہوگی۔ کوئی شخص تو ہمت کر کے جائزہ لے کہ ہم کیوں دنیا میں ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ مولانا نے جس چیز کو صحیح سمجھا اس کو بیان کر دیا۔ جہاں کوئی غلطی نظر آئی اس کا برملا اظہار کر دیا۔ نتیجتاً اُن کو سقراط بن کر لوگوں کی زہریلی باتوں کے جام پینے پڑے، لیکن حرف شکایت زبان پر نہ لائے ۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کی تلواروں کی تعریف کی ہے۔ لیکن کبھی اپنے احتساب کے لیے اٹھنے والے قلم کی تعریف نہ کی۔ ہماری عقلوں کو نہ جانے کس کی نظر لگی ہے کہ جب تک کوئی رہنما اس دنیا سے چلا نہیں جاتا، تب تک ہم اُس کا اعتراف نہیں کرتے۔ ہماری آنکھوں میں ایسی کجی آئی کہ عصر حاضر کے آئینہ میں ہم کو کسی کی خوبی نظر نہیں آتی۔ دعا کریں اللہ میرے اندر ایک داعی کی خوبیاں پیدا کرے ۔ آمین (محمد فاروق، لاہور، پاکستان) ➤ The Quran: An Abiding Wonder was the first book by Maulana that I read about 30 years ago. It helped me understand the reason for the fall of various Muslim rulers and their dynasties over centuries. At a personal level, it has been a constant source of learning for all facets of life. I have also learnt from the Maulana that dawah is not merely one of the activities of a believer, rather it should reflect in all of one’s dealings and behaviour. (Azhar Rizvi, Karachi)

➤The real subject of Maulana’s books is to see things scientifically and understand their logical end. (Qamar Abbas, Lahore)

‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues

Printed page