خبر نامه اسلامی مرکز - 266
الرسالہ، فروری ۲۰۱۹، صفحہ ۴۹
ذیل میں چند تاثرات نقل کئے جاتے ہیں :
میں پچھلے 20 سال سے درس و تدریس کا کام کرتا ہوں۔ تفسیر جلالین، تفسیر نسفی کا طلبہ کو درس دے چکا ہوں، تفسیر القرطبی وغیرہ مطالعے میں رہتی ہیں، لیکن یہ سب تفاسیر صرف فنی معلومات دیتی ہیں۔ نصیحت کہیں کہیں مل بھی جاتی ہے تو فنی معلومات کے بالمقابل نہ کے برابر ہے۔ اس کے برعکس، تذکیر القرآن ایک ایسی تفسیر ہے جس میں صرف پیغام الہی پر فوکس کیا گیا ہے، جس میں ناصحانہ پہلو، داعیانہ پہلو مرکزی موضوع ہے۔ ایک اور بات یہ کہ ایک کم پڑھا لکھا شخص بھی اس تفسیر سے اصل پیغام الہی کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ یہ خصوصیت کسی اور تفسیر میں نہیں ملتی۔ واللہ اعلم (مولانا محمد جمیل صدیقی، گلبرگہ، کرناٹک)۔
تذکیر القرآن کا فوکس معرفت اور دعوت ہے۔ مولانا کی چاہے کوئی کتاب ہو، یا تفسیر، یا لکچر، یہ تمام معرفت اور دعوت پر مبنی ہیں۔ جو آدمی بھی مولانا کی کتابیں اور لکچرس مسلسل پڑھتا اور سنتا رہے گا، امید ہے کہ وہ کنفیوژن سے بچ جائے گا۔ (مولانا عبد الباسط عمری، قطر)۔
تذکیر القرآن ایک ایسی تفسیر ہے، جو دوسروں کے یہاں نہیں ہے۔ خدا اور آخرت کا پیغام، دعوت کا پیغام کسی دوسری جگہ نہیں ملتا ہے۔ یہی تذکیر القرآن کی امتیازی خصوصیت ہے۔ قرآن کا جو اصل پیغام ہے تذکیر القرآن اس کو بتاتا ہے، یعنی خدا اور آخرت رخی زندگی۔ اس کے پڑھنے والے کو ہر جگہ معرفت، دعوت اور ربانیت کی ہی باتیں ملتی ہیں۔ (حافظ سید اقبال احمد عمری، تامل ناڈو)
مولانا صاحب کی تحریریں کس طرح ہمیں سوچنے میں مدد کرتی ہیں۔ اس حوالے سے عرض ہے کہ 1992 میں میں نے کسی کے کہنے پر مولانا کی کتاب ”کتاب زندگی“ خریدی تھی۔ اُس وقت میں مولانا کے نام سے بھی واقف نہ تھا۔ میرا مطالعہ زیادہ تر ناولوں، افسانوں یا سفر ناموں پر مشتمل تھا۔ اُس وقت میری عادت تھی جب کوئی کتاب پڑھنے بیٹھتا، چالیس پچاس صفحے ایک نشست میں ختم کر دیتا تھا۔ اسی عادت کے تحت میں نے مولانا کی مذکورہ کتاب بھی پکڑی، اور پڑھنے بیٹھ گیا، صرف پانچ چھ صفحات پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ کتاب ویسی نہیں جیسی کتابیں میں نے پہلے پڑھی ہیں۔ اس کا ہر صفحہ اپنے دامن میں حکمت و دانائی کے موتیوں کو سمیٹے ہوا ہے۔ یہ کتاب تو کا یا پلٹ (game changer) کتاب ہے۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ہر روز اس کتاب کا ہر روز ایک صفحہ پڑھوں گا۔ پھر اس صفحہ میں جو پیغام ہے اُس کو اچھی طرح سے ذہین نشین کرنے کے لیے باتوں باتوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اُس پیغام کو زیر گفتگو لاؤں گا۔ کتاب زندگی کو میں نے ایسے ہی ختم کیا تھا۔ اس کتاب نے مجھے سنجیدگی دی، اور ایک با مقصد زندگی کی طرف راغب کیا۔ پھر مولانا کی کتابوں کا ایسا ذوق پیدا ہوا کہ ایک کے بعد ایک کتاب زیر مطالعہ رہی۔ تاہم کبھی بھی مولانا کی کتاب کے دو تین صفحے سے زیادہ پڑھنے کی کوشش نہ کی۔ کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ مولانا کی دعوت گہرے غور وفکر کا تقا ضہ کرتی ہے۔ سرسری مطالعہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 2019 All issues