Al-Risala · March 2020 · page 8

حالات کی رعایت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۸

حالات کی رعایت

مسلمانوں میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں دو چیزوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے، اور وہ ہے قرآن اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سے یہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔ مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کارہنما بنایا۔ سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبداللہ بن أریقط یا أَرْقَط ( سیرت ابن ہشام ، جلد 1، صفحہ 488) بتایا گیا ہے۔ یہ ایک طریقے کی بات تھی، جو قرآن میں پہلے سے لکھا ہوا موجود نہ تھا، وہ حالات کا تقاضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے تقاضے کی رعایت کرنا، کام کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تیسرے عمل، یعنی حالات کے تقاضے کو سمجھیں، ورنہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ حالات کے تقاضے کو سمجھنا، اور اس کی رعایت کرنا، منصوبہ بندی کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور بغیر کسی ریزرویشن کے حالات کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھائے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے اس راز کو نہیں سمجھا کہ موجودہ زمانہ جدید ٹکنالوجی کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو سمجھیں، اور اس کو اپنی تعمیر میں استعمال کریں۔ پیغمبر اسلام کی سنت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے ایک طرف وحی کی پیروی کی، اور دوسری طرف حالات کے تقاضے کو سمجھ کر ہمیشہ حکمت پر مبنی پلاننگ کی۔ آپ نے ہمیشہ ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنایا۔ آپ ہمیشہ دوسروں کے لیے ناصح (خیر خواہ) بنے رہے۔ آپ نے اس حکمت کو اتنا زیادہ اختیار کیا کہ آپ نے آخری حد تک خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page