محفوظ کا تحفظ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۹
محفوظ کا تحفظ
دیوبند کے دو عالم ملاقات کے لیے آئے۔ ان کے ساتھ میں نے گفتگو کی، اس کا خلاصہ میں نے اپنی ڈائری میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ’’ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل جگہ جگہ تحفظ ختم نبوت کا نفرنس ہو رہی ہے۔ میں اس قسم کی کا نفرنسوں کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تحفظ آفتاب کا نفرنس منعقد کی جائے۔ سورج براہ راست خدا کی طاقت سے قائم ہے، اس کے لیے تحفظ آفتاب کا نفرنس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نبوت کی حفاظت بھی خدا نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس کے لیے بھی یہ ضرورت نہیں کہ تحفظ نبوت کا نفرنس منعقد کی جائے۔ مسلمانوں کی اصل ذمے داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے۔ یعنی پیغمبر نے اپنے بعد جو دین چھوڑا ہے، اس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان دعوت نبوت کا کام نہیں کرتے، البتہ وہ تحفظ نبوت کی کا نفرنس کر رہے ہیں۔ اس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل مسئولیت کا کسی بھی درجے میں بدل نہیں۔ ‘‘ (ڈائری، 5 دسمبر 1989)
تحفظ ختم نبوت کا مطلب کیا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ خطرے میں ہے، اس کو بچاؤ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کہاں خطرے میں ہے، اور کون اس کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس کا حقیقی جواب کسی کے پاس نہیں۔ یہ ایک مفروضہ خطرے پر کا نفرنس منعقد کرنا ہے۔ اس مسئلے پر اگر کچھ کام کرنا ہے، تو وہ نبوت کے عقیدے پر ایسی کتابیں لکھنا ہے، جو علمی اور تاریخی دلائل کی بنیاد پر تیار کی گئی ہوں۔ ایسی کتابیں، جن سے لوگوں کو پیغمبر کی رہنمائی پر یقین حاصل ہو۔ ایسی کتابیں، جو لوگوں کے ایمان میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ ایسی کتابیں، جو موجودہ عقلی دور میں لوگوں کے لیے عقل کی بنیاد پر اس عقیدے کو قابل فہم بنائیں۔ یہ کتابیں سب وشتم کی زبان میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عقلی دلائل کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ یہ زمانہ عقلی تفہیم و تبیین کا زمانہ ہے۔ کوئی اور اسلوب آج کے انسان کے لیے مؤثر نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues