دین کی عصری تفہیم
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۰
دین کی عصری تفہیم
ایک لمبی روایت صحابی رسول کے حوالے سے حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک جز یہ ہے۔ آپ نے کہا: وَعَلَى الْعَاقِلِ أَنْ يَكُونَ بَصِيرًا بِزَمَانِهِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی دانش مند کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے زمانے سے باخبر ہو۔ بصیرت زمانی کی یہ صفت زندگی کے عام معاملات کے لیے بھی ہے، اسی کے ساتھ دین کو زمانے کی نسبت سے سمجھنے کے لیے بھی۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات مومن مجتہد کے لیے کہی گئی ہے۔ اجتہاد اہل اسلام کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اجتہاد کی خاص شرط کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ مومن مجتہد قرآن وسنت کی گہری واقفیت کے ساتھ اپنے زمانے کے حالات سے بھی بخوبی طور پر واقف ہو۔ تا کہ وہ زمانے کے تقاضے کے مطابق اسلامی تعلیم کی نئی تشریح کر سکے۔ ایسی تشریح جس میں اسلام کی تعلیمات کی بھر پور طور پر تعمیل موجود ہو، اور اسی کے ساتھ اس میں زمانے کے حالات کے مطابق اہلِ اسلام کو درست رہنمائی حاصل ہوتی ہو۔
اجتہاد دوسرے الفاظ میں اسلام کی دانش مندانہ تعبیر ہے۔ جس آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ قرآن و سنت سے واقف ہو، لیکن اس کے اندر دانش مندی کی صفت نہ ہو، تو وہ دین کو درست طور پر نہیں سمجھے گا۔ وہ درست طور پر لوگوں کو دینی رہنمائی نہ دے سکے گا۔ وہ دین کو تطبیقی انداز (applied way) میں پیش نہ کر سکے گا۔
دین کی عصری تفہیم کا مطلب صرف یہ ہے کہ ابدی دین کو وقت کے اسلوب (idiom) میں بیان کرنا۔ دینی متن (religious text) کا ترجمہ اگر صرف ترجمہ ہے تو اس کی عصری تفہیم کا مطلب ترجمہ پلس (translation plus) ہے، یعنی سطور(lines) کے ساتھ بین السطور(between the lines) کا بیان۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues