تجدیدی کام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۳
ان کے دو درجے ہیں ۔ روایتی انطباق (traditional application)، عصری انطباق (contemporary application)۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روایتی اعتبار سے تمام علوم پر اتنا کام ہوا ہے کہ وہ نضج کے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔ لیکن دورِ سائنس، جو روایتی دور سے بالکل مختلف ہے، اس دور کے اعتبار سے یہ ضرورت ابھی باقی ہے کہ تمام علوم کو دورِ جدید کے معیار پر دوبارہ مدون کیا جائے۔ اس دوسرے پہلو سے تمام علوم ابھی تک غیر نضج کی حالت میں ہیں۔ غالباً کوئی بھی علم نضج کے درجے تک نہیں پہنچا۔
مثلاً عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فقہ کا علم نضج کے درجے تک پہنچ چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فقہ اس معاملے میں مستثنیٰ (exception) نہیں۔ مثال کے طور پر کئی عمل ایسے ہیں، جن کے بارے میں فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یہ قتل حد (بہ طور حد قتل کیا جائے گا)۔ جیسے ترک صلاۃ، ارتداد، شتم رسول، وغیرہ۔ اسی طرح فقہانے دنیا کو دار الاسلام اور دار الحرب کے خانوں میں تقسیم کر رکھا ہے، وغیرہ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کے فتاویٰ زمانی تقاضے کے تحت بنے ہیں، جو موجودہ زمانے میں غیر متعلق (irrelevant) ہو چکے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خود علما کے عمومی مسلک کے مطابق اس قسم کے فتاویٰ پر نظر ثانی کی جائے۔ علما کے اس مسلک کی نمائندگی کرتے ہوئے ابن القیم (1292-1350ء) نے اپنی کتاب إعلام الموقعین عن رب العالمین میں ایک مستقل باب لکھا ہے، اس باب کا عنوان یہ ہے: فَصْلٌ فِي تَغْیِیرِالْفَتْوَى،وَاخْتِلَافِہَا وَاخْتِلَافِهَا بِحَسَبِ تَغَيُّرِ الْأَزْمِنَةِ وَالْأَمْكِنَةِ وَالْأَحْوَالِ وَالنِّيَّاتِ وَالْعَوَائِد (فصل: زمانہ، مقامات، حالات، نیتوں اور ضروریات کے بدل جانے کی بنیاد پر فتویٰ کی تبدیلی، اور ان میں فرق)۔
صاحب ایجنسی اور سبسکرائبر حضرات متوجہ ہوں
اپنے ذمہ واجب الادا رقم یا تجدید خریداری کی رقم ارسال کرنے کے بعد ادارہ کو درج ذیل موبائل نمبر پر ضرور مطلع کریں، تاکہ آپ کی رقم آپ کے اکاؤنٹ میں اپڈیٹ کی جاسکے۔ (ادارہ) +91 8588822679
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues