Al-Risala · March 2020 · page 14

فارم ، اسپرٹ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴

فارم ، اسپرٹ

عباسی دور میں فقہ کی تدوین ہوئی۔ صحابہ کے دور اور تابعین کے دور میں عام طور پر مبنی بر اسپرٹ دیں کا تصور پایا جاتا تھا، لیکن فقہاء کے دور میں بعض اسباب سے مبنی بر فارم دین کا تصور عام ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس بارے میں لوگ غلو (انتہا پسندی) کی حد تک پہنچ گئے۔ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں دین میں اصل اہمیت اسپرٹ کی ہوتی تھی۔ اس بنا پر اس زمانے میں جزئی نوعیت کے طرق عبادت میں تنوع کا تصور پایا جاتا تھا۔ یہ تصور اس حدیث پر مبنی تھا: تھا:أَصْحَابِی كَالنُّجُومِ فَبِأَيُّهُمْ اَقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ (جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 1684)۔ یعنی میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جن کی بھی اقتدا کرو گے، ہدایت پر رہو گے۔

لیکن بعد کے زمانے میں جب کہ طرق عبادت میں تعدد کا ذہن ختم ہو گیا، اور فارم میں تو حد پر زور دیا جانے لگا تو اس قسم کا ذہن ختم ہو گیا۔ مگر یہ طریقہ بلا شبہ درست طریقہ نہیں۔ کیوں کہ اس روایت کے علاوہ بھی ایسی صحیح روایات ہیں، جس میں تعدد کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً رسول اللہ کے زمانے میں ایک صحابی کا بلند آواز سے کہنا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 799)۔ روایت کے مطابق، یہ کلمہ سن کر آپ نے اس کی تحسین کی، جب کہ رسول اللہ نے پہلے کبھی اس کی تعلیم نہیں دی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ عبادت کے جزئی طریقوں میں اسپرٹ اصل ہے۔ اس معاملے میں اگر اسپرٹ کو اصل مانا جائے تو اپنے آپ فرقہ بندی کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر عبادت کے جزئی طریقوں میں فارم پر زور دیا جانے لگے تو فرقہ بندی کا دروازہ کھل جاتا ہے، جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ عہدِ رسالت میں عبادت کا صرف ایک تصور پایا جاتا تھا، وہ ہے عبادت میں اسپرٹ پر زور۔ عبادت میں فارم پر زور دینے کا تصور بعد کے زمانے میں پیدا ہوا، اور پھر تاریخ میں عام ہو گیا۔ تاہم مبنی بر اسپرٹ عبادت ہی اصل عبادت ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 757)۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page