Al-Risala · March 2020 · page 15

دعوتی حکمت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۵

دعوتی حکمت

ہر زمانے میں کام کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں مختلف مقامات پر اصنام (idols) ہوا کرتے تھے۔ لوگ ان اصنام کے نام پر سفر کیا کرتے تھے۔ اس طرح عرب میں ایک قسم کا سیاحت کلچر (tourist culture) رائج ہو گیا تھا۔ رسول اور اصحاب رسول نے اس سیاحت کلچر کو بڑے پیمانے پر دعوتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ تھوڑے وقت میں دین توحید کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔

موجودہ زمانے میں ایک نیا کلچر رائج ہوا ہے، جس کو لیڈیز فرسٹ (ladies first) کہا جاتا ہے۔ اس کلچر کے تحت ایسا ہوا ہے کہ اجتماعی مواقع پر عورتوں کو ترجیح (preference) دی جاتی ہے، ان کو پہلے موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کلچر دعوت کے کام کے لیے بہت مفید ہے۔ چنانچہ ہمارے ساتھی جب قرآن یا لٹریچر پھیلانے کے لیے کہیں جاتے ہیں، اور وہ دیکھتے ہیں کہ وہاں لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تو خواتین آگے بڑھ کر دعوتی کام میں حصہ لیتی ہیں۔ تمام لوگ بہت عزت کے ساتھ ترجمہ قرآن اور تعارفِ اسلام پر مشتمل لٹریچر لیتے ہیں۔ اس طرح دعوت کے کام میں بہت آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اسی کا نام حکمت ہے۔ جو لوگ دعوتی کام کر رہے ہیں، ان کو چاہیے کہ موقع کے لحاظ سے دعوت کے لیے حکمت کا طریقہ اختیار کریں۔ دعوتی حکمت کس طرح دریافت ہوتی ہے، اس کا جواب ایک پرانی مثل میں ملتا ہے: جو بندہ یابندہ، یعنی ڈھونڈنے والا پاتا ہے۔ ڈھونڈنے والے بنئے، چیزیں آپ کو اپنے آپ مل جائیں گی۔ مطلوب چیزوں کی کوئی فہرست نہیں بنتی۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ مل جاتی ہیں۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ڈھونڈنے والا بنے۔ اس کے بعد اپنے آپ اس کے اندر جستجو کی اسپرٹ پیدا ہوگی۔ وہ اپنے آپ متلاشی انسان بن جائے گا۔ دعوتی حکمت اختیار کرنے کے لیے کس چیز سے بچنا چاہیے۔ اس کے لیے سب سے ضروری چیز ہے، اپنے آپ کو بھٹکاؤ (distraction) سے بچانا، اور یکسوئی کے ساتھ اپنے مطلوب کی تلاش میں لگے رہنا۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page