Al-Risala · March 2020 · page 18

ظلم کا بدلہ

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۸

ظلم کا بدلہ

قرآن کی ایک آیت میں مظلوم کا معاملہ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا (4:148)۔ یعنی اللہ پسند نہیں کرتا ظاہر کرنا بری بات ، مگر جس پر ظلم ہوا ہو ، اور اللہ سننے والا ، جاننے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق ، مظلوم کے لیے جائز ہے کہ وہ ظالم کے خلاف بولے۔ مگر یہ جواز رخصت کے درجے میں ہے ، عزیمت کے درجے میں نہیں۔ اگر کوئی شخص ظلم پر بدلہ لینا چاہے تو اس کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ٹھیک اتناہی بدلہ لے جتنا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔ اگر وہ ظلم سے زیادہ کرے گا تو خدا کی نظر میں وہ خود ظالم بن جائے گا (النحل، 16:126، الشوریٰ 42:40)۔

اسی لیے رسول اور اصحابِ رسول نے کبھی ظلم پر بدلہ نہیں لیا، بلکہ ان کا رویہ قرآن کے اس حکم کے تحت تھا: وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (42:37)۔ یعنی اور جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایمان کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کردے (الشوریٰ، 42:43)۔ یہی اعلیٰ اخلاق ہے۔ اعلیٰ اخلاق کا فائدہ یہ ہے کہ آدمی ظالم کو معاف کر کے اس کو اپنے لیے نیکی میں کنورٹ کر دیتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق کی نسبت سے دیکھا جائے تو مظلومیت نیکی کمانے کا ایک موقع ہے۔ ظلم کے باوجود ظالم کو معاف کر دینا، بلاشبہ ایک عظیم نیکی ہے۔ دعوت اور داعی کی نسبت سے دیکھا جائے تو یہ اور زیادہ اہم بات ہے۔ داعی اگر ظالم کو معاف کر دے تو اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مظلوم اور ظالم کے درمیان معتدل ماحول قائم ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے اگر دونوں کے درمیان ظالم اور مظلوم کا تعلق تھا، تو اب دونوں کے درمیان داعی اور مدعو کا تعلق ہو جاتا ہے۔ ظالم کو معاف کرنا، عملاً دعوت کے مواقع کھول دیتا ہے۔ ظلم پر فریاد کرنا صرف ایک رخصت کا معاملہ ہے ۔ جب کہ ظلم کو معاف کر دینا، داعی کا اخلاق ہے، یعنی بااصول انسان کا اخلاق ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page