جدید مائنڈ سٹ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
جدید مائنڈ سٹ
میں کئی مہینے سے بیماری کے دور سے گزر رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ساتھیوں نے ستمبر 2019 کے پہلے عشرے میں یہ فیصلہ کیا کہ مجھ کو دلّی کے سب سے اچھے اسپتال میں لے جائیں۔ میں اس کے لیے راضی نہیں تھا۔ کیوں کہ نو جوانی کی عمر سے میں یہ سنتا تھا کہ اسپتال انسان کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مثلاً مشہور اردو شاعر اکبر الہ آبادی نے جدید دور کے بارے میں طنزیہ انداز میں لکھا تھا: ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر انڈیا کے ایک معروف عالم دین کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسپتال کی زندگی سے بچائے۔ مجھے دو بزرگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ علاج کے لیے امریکا گئے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے، تو ان کے معتقدین نے ان کو مشورہ دیا کہ حضرت آپ یہودی ڈاکٹروں سے علاج مت کیجیے گا۔ کیوں کہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان اس قسم کا ماحول اس بات کے لیے رکاوٹ بن گیا ہے کہ وہ جدید ترقیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق جدید ترقیوں سے الرجک ہو گئے ہیں۔ ان حضرات کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ پروفیشنلزم(professionalism) (professionalism) کا زمانہ ہے۔ اب یہودی ڈاکٹر یہودی کی حیثیت سے علاج نہیں کرتے، اب کرشچن ڈاکٹر کرشچن کی حیثیت سے کسی انسان کا طبی معائنہ نہیں کرتا، بلکہ خالص پروفیشنل انداز میں وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔ جدید ترقی کیا ہے۔ وہ دراصل خدا کے پیدا کردہ امکانات کو دریافت کرکے ان کو استعمال کرنا ہے۔ یہ ترقی غیر اسلامی ترقی نہیں، بلکہ وہ خود خدا کی تخلیق کا حصہ ہے۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت زبردست کوتاہی برتی۔ بالآخر ایسا اس حقیت کو سمجھنا چاہیے تھا کہ وہ منہ پر نقصان اور سمجھنے میں بہت زیادہ دیر کی اب انھیں بلاتاخیر اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے، تا نچ جائیں ۔ (11 ستمبر 2019)
کہ وہ مزید نقصان سے
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues