Al-Risala · March 2020 · page 24

فکری آزادی کا فارمولا

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴

صحیح بتائے۔

کہا جاتا ہے کہ مشرقی دنیا میں فکری جمود کا مسئلہ ہے۔ مشرقی فکر کے مفروضہ جمود کا سبب یہ ہے کہ اہل مشرق آزادی فکر کا کوئی قابل عمل (workable) فارمولا دریافت نہ کر سکے۔ مغرب میں فکری عمل بھر پور طور پر جاری ہوا، لیکن مشرق میں فکری عمل تنگ حالت میں پڑا رہا۔ جس چیز کو فکری جمود کہا جاتا ہے، وہ نتیجہ ہے فکری عمل کے ورکبیل (workable) فارمولے کو دریافت کرنے میں ناکام رہنا۔ کیوں کہ مشرق میں تعدد فکر (diversity of thought) کے بجائے تو حد فکر (unity of thought) کو اپنایا گیا۔ اہل مشرق چیزوں کو حلال و حرام کے ٹرم میں دیکھتے رہے، جس کی وجہ سے ان کے یہاں فری تھنکنگ عملاً رواج نہ پاسکی۔ ہر بار جب ایک شخص نے کوئی فکری فارمولا دریافت کیا، تو دوسرا شخص جوابی ذہن لے کر کھڑا ہو گیا کہ یہ غلط ہے، یہ نا جائز ہے، یہ حرام ہے، وغیرہ۔ مشرق میں کسی کے لیے بھی فری تھنکنگ کو اپنا کر جمہور سے الگ رائے اختیار کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں فکر و تحقیق کا کام تعطل کی حالت میں پڑا رہ گیا۔ مغرب میں فکری آزادی کا ڈیولپمنٹ واقعہ بن گیا، لیکن مشرق میں یہ واقعہ نہیں بن سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس معاملے میں اصل رکاوٹ اتھارٹی کا نظریہ تھا، یعنی باتوں کو ریزن کی بنیاد پر سننے کے بجائے اکابر کی بنیاد پر سننا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں اتھارٹی کا تصور چھایا ہوا تھا۔ تاہم مغرب میں سائنس اور چرچ کے ٹکراؤ کے نتیجے میں اتھارٹی کا تصور کمزور ہوا، پھر اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد مغرب نے نسبتاً آسانی کے ساتھ ڈسنٹ (dissent) کا نیوٹرل نظریہ اختیار کر لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں پوپ ڈم (popedom) کا مستند تصور ایک مدت کے رواج کے بعد ختم ہوگیا۔ اس کے برعکس، مشرق کا حال یہ ہے کہ وہاں اس قسم کا تصور اعتقادی سطح پر موجود ہے۔ مشرق میں اتھارٹی کا تصور عقیدے پر مبنی ہے، یعنی اکابر کی اتھارٹی۔ اس لیے وہ ختم نہ ہوسکا۔ بلکہ آج تک وہ موجود چلا آرہا ہے۔ یہاں ہر آدمی عملاً یہ مانتا ہے کہ اکابر کی رائے عقیدے سے تعلق رکھتی ہے، اور عقیدے کے معاملے میں حرام و حلال کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ریزن کو۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page