فکری آزادی کا فارمولا
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵
آزادی فکر اپنے آپ میں تنوع (diversity) چاہتی ہے۔ اس لیے آزادی فکر اور توحد فکر دونوں یکجا نہیں ہو سکتے۔ دونوں کو یکجا کرنے کا نتیجہ نکلے گا کہ آزادی فکر کا حصول عملاً نا ممکن ہو جائے گا۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس معاملے کے لیے ایک نیوٹرل فارمولا دریافت کیا جائے۔ یعنی ہر ایک یہ کرے کہ وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کو بھی یکساں درجے میں صحیح سمجھنے کا حق دے۔ اسی نیوٹرل آزادی فکر کا نام ہے ڈسنٹ ، جو آزادی فکر کا واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ آزادی فکر ایک میوچول پراسس (mutual process) ہے، وہ یونی لیٹرل (unilateral) نوعیت کا پراسس نہیں۔
☆☆☆☆☆
دور جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہو چکا ہے، اور بذریعہ ڈسینٹ (dissent) اختلاف کو اوائڈ کرنے آغاز ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا، تو اس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔ مثلاً قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا : القتل انفی للقتل (قتل، قتل کے لیے سب سے بڑا روک ہے۔
مگر اب یہ فریم ورک (framework) بدل چکا ہے۔ موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمے کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure) بدل گیا ہے۔ اب وسیع تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔ اب جو اختلاف ختم ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو تلوار کی بنیاد پر فیصلے کا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسُنٹ (dissent) ۔ انسان کی عقل نے یہ ریلائز کرلیا ہے کہ اختلاف کا خاتمہ ریزن کی سطح پر ہو سکتا ہے۔ پہلے زمانے میں حالت یہ تھی کہ اختلاف کی وجہ سے اگر کوئی فریق نہ لڑنا چاہے، تب بھی اس کو جان و مال کی قربانی دینی پڑتی تھی۔ اس کے برعکس، موجودہ دور میں ریزن (reason) کی سطح پر اختلاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues