Al-Risala · March 2020 · page 29

دو قرآنی آیات

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹

دو قرآنی آیات

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: مِنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا (5:32)۔ یعنی جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، انسان کو قتل کرنا، سب سے بڑا سوشل کرائم (social crime) ہے۔ اس معاملے میں استثنا صرف یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ایک انسان کو عمداً (intentionally) قتل کر دیا، تو وہ قابل گردن زدنی قرار پائے گا۔ اس سلسلے میں دوسری چیز فساد فی الارض ہے۔ تفسیر المنار میں فساد فی الارض کی تفسیر سلب امن سے کی گئی ہے (تفسیر المنار، جلد 6، صفحہ 288)۔ یعنی ایسا فعل انجام دینا، جس سے امن عامہ ختم ہوتا ہو۔ گویا قتل نفس سے مراد انفرادی قتل ہے، اور فساد فی الارض سے مراد اجتماعی قتل ہے۔

قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:39)۔ یعنی اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے ان کے عمل کا۔ اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قرآن میں اس جرم پر قتال (war) کا حکم دیا گیا ہے۔ کیوں کہ مذہبی جبر کا فعل عام طور پر حکومت کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس لیے یہ حکم دیا گیا کہ ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ کی یہ حالت ختم ہو جائے۔ قرآن کی یہ آیت بتاتی ہے کہ اسلام میں جنگ کا تصور کیا ہے۔ اس آیت میں لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ اور وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ دونوں ایک ہی حکم کے دو پہلو ہیں۔ ایک منفی پہلو، اور دوسرا مثبت پہلو۔ فتنہ سے مراد نظام فطرت میں مداخلت ہے، یعنی مذہبی جبر، اور وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ سے مراد ہے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page