Al-Risala · March 2020 · page 28

مذہبی برداشت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۲۸

مذہبی برداشت

مذہبی معاملات میں برداشت کا معاملہ سب سے زیادہ نازک معاملہ ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ معاملہ اگر سیکولر میدان کا ہو تو آسانی سے آدمی اس کے لیے راضی ہو جاتا ہے کہ وہ خود ایک راستے پر چلے، اور دوسرے کو دوسرے راستے پر چلنے دے۔ مگر جب معاملہ مذہبی ہو تو دونوں فریق اپنے آپ کو برحق سمجھنے لگتے ہیں، دونوں میں سے کوئی لچک (flexibility) دکھانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ یہ بے لچک اندازِ مذہبی معاملات میں برداشت یا رواداری کو ختم کر دیتا ہے۔ یہی بنیادی سبب ہے، جس کی بنا پر سیکولر معاملے میں آسانی کے ساتھ برداشت کا طریقہ اختیار کر لیا جاتا ہے، اور جب کہ مذہبی معاملے میں رواداری ایک حرام طریقہ نظر آنے لگتا ہے۔ آدمی کو سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ وہ کیسے ایسا کرے کہ حرام راستے پر چلنے کے لیے راضی ہو جائے۔ اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ دونوں فریق باہمی احترام (mutual respect) کا طریقہ اختیار کریں۔ پیش آمدہ معاملے کو اخلاق کا معاملہ بنا دیں، نہ کہ عقیدے کا معاملہ۔ کسی معاملے کو آپ مذہبی عقیدے کا معاملہ سمجھیں، تو ایسا معاملہ بہت جلد حرام و حلال کا معاملہ بن جاتا ہے۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک طریقہ حرام ہے، اور دوسرا طریقہ حلال۔ اب آپ کو سمجھ میں نہیں آتا کہ حلال طریقے کو چھوڑ کر حرام طریقہ کیسے اختیار کریں۔ اس کے برعکس، پیش آمدہ معاملہ جب آپ کے لیے اخلاق کا معاملہ ہو جائے، تو اس وقت برداشت کا طریقہ اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ ایسی صورت میں آپ کو نظر آتا ہے کہ بیجا پسپائی اختیار کیے بغیر آپ بھی اپنے راستے پر چلتے رہیں، اور دوسرا بھی اپنے راستے پر چلتے ہوئے اپنے مقام تک پہنچ جائے۔

برداشت کا طریقہ اختیار کرنے میں باہمی افہام و تفہیم کا راستہ کھل جاتا ہے۔ جب کہ اس کا برعکس راستہ اختیار کرنے میں باہمی افہام و تفہیم کا راستہ بند پڑا رہتا ہے۔ دانش مندی یہ ہے کہ معاملات کو حرام و حلال کا مسئلہ بنانے کے بجائے عملی مفاہمت کا راستہ بنا دیا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page