مسلمانوں کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۲
مسلمانوں کا مسئلہ
مسلمان اور مغربی قوموں کے درمیان طویل مدت تک ایک جنگی سلسلہ چلا۔ یہ جنگی سلسلہ 1096ء شروع ہوا، اور تقریباً دو سو سال تک وقفے وقفے کے ساتھ جاری رہا۔ اس کو تاریخ میں صلیبی جنگ (Crusades) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کو مکمل فتح، اور مغربی قوموں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمان فتح کی خوشی منانے میں مشغول ہو گئے۔ دوسری طرف مسیحی یورپ کے اندر موضوعی انداز (objective way) میں ری پلاننگ (re-planning) کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ کس طرح میدان جنگ کی شکست کو کسی اور میدان میں کامیابی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ آخر کار انھوں نے یہ دریافت کیا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر میدان موجود ہے، اور وہ ہے جنگی کروسیڈس کے بجائے اسپرچول کروسیڈس۔ یعنی فطرت کے قوانین کو دریافت کر کے اس کے ذریعے دوبارہ فتح حاصل کرنا۔
اس منصوبہ بندی میں انھوں نے سو سال سے زیادہ کا عرصہ لگایا۔ یہاں تک کہ مسیحی یورپ نے واقعہ عمل کا نیا میدان دریافت کر لیا۔ یہ دریافت فطرت کے قوانین (laws of nature) کی دریافت تھی۔ اس دریافت نے مسیحی یورپ کو ایک نئی طاقت دے دی، جس سے اب تک دنیا نا واقف تھی۔ وہ ہے جنگی طاقت کے بجائے فطرت کے قوانین کی تسخیر۔ یہ ایک انوکھی دریافت تھی۔ کیوں کہ اس نے مسیحی یورپ کو یہ موقع دے دیا کہ وہ جنگ کیے بغیر امن کی طاقت سے دنیا پر غلبہ حاصل کر لیں۔ اس دریافت کو عام زبان میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) کہا جاتا ہے۔ مسیحی یورپ کی اس دریافت نے مسلمانوں کو بھی ایک عظیم رہنمائی دی ہے، وہ یہ کہ مسلمان مسلح جہاد کے بجائے، پرامن میدان جہاد کو اختیار کریں۔ وہ تخریب کے بجائے تعمیر کی طاقت کے ذریعے جینے کا راز دریافت کریں۔ وہ سیاسی غلبہ کی اصطلاح میں سوچنے کے بجائے انسانیت کی تعمیر (development) کی اصطلاح میں سوچیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues