مسلمانوں کا مسئلہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۳
قدیم زمانہ اور جدید زمانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جسمانی طاقت (muscle power) کی اہمیت ہوتی تھی۔ اب ٹکنالوجییکل پاور کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں قتل و قتال کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں آرگنائزیشن کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں اہمیت یہ تھی کہ بادشاہ کے سر سے اس کا تاج چھین لیا جائے، موجودہ زمانے میں ساری اہمیت سائنس اور تعلیم کی ہوگئی ہے۔ قدیم زمانے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت اہم ہوا کرتی تھی، موجودہ زمانے میں پلاننگ کی اہمیت زیادہ ہے۔ قدیم زمانے میں خطابت کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں علم کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں شعر و شاعری اور انشاپردازی کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں فیکٹ (fact) کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں باتوں کا فیصلہ میدان جنگ میں ہوا کرتا تھا، موجودہ زمانے میں باتوں کا فیصلہ گفتگو کی میز پر ہوا کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں الفاظ کی اہمیت ہوا کرتی تھی، موجودہ زمانے میں ساری اہمیت معانی کی ہوتی ہے۔
آج مسلمانوں کو جو اصل کام کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ زمانے کے فرق کو پہچانیں، وہ شاعری، ادب اور خطابت کے دور سے باہر نکلیں، اور علم کے دور میں جینے کا طریقہ سیکھیں۔ وہ ماضی کی فتوحات کو دہرانے کا کلچر چھوڑ دیں، اور حال کے معیار کو سمجھیں، اور اس کے مطابق اپنی تعمیر نو کریں۔ وہ اس بات کو جانیں کہ زندگی کا راز قومی فخر میں جینا نہیں ہے، بلکہ ساری دنیا کے ساتھ ترقی کے عمل میں شریک ہونے کا نام زندگی ہے۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ماضی کے جس دور پر وہ فخر کرتے ہیں، وہ دور اب مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔ وہ جس چیز کو اپنا فخر بنائے ہوئے ہیں، وہ فرضی فخر (false pride) کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمان آج بھی خلافت کے نام سے ایمپائر کے دور میں جی رہے ہیں۔ حالاں کہ موجودہ زمانہ نیشن اسٹیٹ کا زمانہ ہے، جس نے ایمپائر کے دور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا ہے۔ مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں پیرانویا (paranoia) کا کیس ہے۔ پیرانویا کا مطلب ہے، فریب خوردگی (delusion) میں جینا۔ اس خود فریبی سے نکلنے ہی میں ان کے لیے نئی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues