Al-Risala · March 2020 · page 34

وطن سے محبت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۴

وطن سے محبت

28 مارچ 1998 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک سیمینار تھا۔ اس کا اہتمام اردو اکادمی، دہلی کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر میں نے بھی ایک تقریر کی۔ میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک حب الوطنی کا مسئلہ تھا۔

میں نے کہا کہ 20 ویں صدی میں لمبی مدت تک مسلم مفکرین کسی نہ کسی طور پر اس نظریہ سے متاثر رہے ہیں، جس کو عام طور پر پان اسلامزم (pan islamism) کہا جاتا ہے۔ اس میں دورِ جدید کے بہت سے مسلم مفکرین کے نام شامل ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کو ایک بین اقوامی برادری سمجھتے تھے، اور مسلمانوں کو ایک عالمی قومیت کا رکن بتاتے تھے۔ اپنے اس نظریے کی بنیاد پر ان کا کہنا تھا کہ قومیت (nationhood) کی بنیاد مذہب پر ہے، نہ کہ وطن پر۔

میں نے کہا کہ میری عمر ہجری کیلنڈر کے لحاظ سے 78 سال ہو رہی ہے۔ میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ اسلام اور اسلام سے متعلق علوم کے مطالعے میں گزارا ہے۔ میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ قومیت کو مذہب پر مبنی قرار دینا کوئی اسلامی نظریہ نہیں۔ یہ سراسر ایک سیاسی نظریہ ہے، جو مخصوص حالات میں پیدا ہوا۔ 20 ویں صدی کے نصف اول میں مسلمان قائدین یورپی استعمار کے خلاف تمام دنیا کے مسلمانوں کو ابھارنا چاہتے تھے۔ اپنے اس سیاسی مقصد کے نظریاتی جواز کے لیے انھوں نے مذہبی قومیت کا مذکورہ نظریہ پیش کیا۔ یہ اسلام کا سیاسی استحصال تھا، نہ کہ اسلام کی حقیقی ترجمانی۔ اس معاملہ میں اسلام کا نقطہ نظر وہی ہے، جو پولیٹیکل سائنس کا نقطہ نظر ہے، اور جس کو تمام دنیا میں نظری یا عملی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قومیت (nationhood) کی بنیاد وطن (motherland) پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا میں پاسپورٹ پر کسی آدمی کی قومیت (nationality) وہی لکھی جاتی ہے، جو وطن کی نسبت سے اس کی ہے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو، یا دوسرے مذہب سے۔ مثلاً انڈیا میں ہر مسلمان یا غیر مسلمان پاسپورٹ میں اپنے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page