Al-Risala · March 2020 · page 36

وطن سے محبت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۶

(فَإِنِّي قَدْ أَشْرَكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَكَ) ۔ سفارتی امور پر گفتگو کرنے کے بعد آپ نے ان دونوں سفیروں سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری ذاتی رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ نے کہا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا (اَمَّا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا) سيرة ابن هشام، جلد 2، صفحه 600۔

پیغمبر اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین اقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا طریقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس کو ہر حال میں محترم سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ وطنیّت کے معاملہ میں دنیا میں جس اصول کو عمومی طور پر مان لیا جائے وہی شریعت میں بھی اختیار کر لیا جائے گا۔ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر عقیدہ اور مذہب کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔

ایک بار میں ایک جلسہ میں شریک تھا۔ وہاں ایک صاحب نے اپنی تقرير میں حب وطن کی اہمیت بیان کی، اور کہا کہ اسلام میں بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے : حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإِيمَانِ (الدرر المنثورة للسيوطي، حدیث نمبر 190) ۔ یعنی وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایک عالم جو اس وقت جلسے میں موجود تھے، انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا که حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإيمان کوئی حدیث نہیں ہے، یہ تو صرف ایک عربی مقولہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الإيمان حديث نہیں۔ مگر وہ سادہ طور پر صرف عربی کا ایک مقولہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کا ایک مقولہ ہے، جو انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم کچھ علماء نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن السخاوی (وفات 1497ء) نے اس قول کو ذکر کرنے کے بعد لکھا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page