Al-Risala · March 2020 · page 37

وطن سے محبت

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۷

ہے: لم أقف عليه، ومعناہ صحيح (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 386)۔ یعنی میں اس سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، السخاوی کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیث رسول کے طور پر ان کو نہیں ملا، لیکن دین اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔ کتابوں کے ذخیرے میں بہت سی چیزیں ہیں، جو خواہ حدیث رسول نہ ہوں، لیکن وہ یقینی طور پر حدیث فطرت ہیں۔ اس بات کو بتانے کے لیے محدثین نے وہ اصول بنایا ہے، جس کو السخاوی کے حوالے سے اوپر بیان کیا گیا۔

راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر کلام رسول کے طور پر ثابت شدہ نہ ہو، تب بھی وہ حدیث فطرت ہے۔ جو آدمی حُب الوطنی کو فطرت کا جز نہ سمجھتا ہو، وہ جانتا ہی نہیں کہ فطرت کیا چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وطن سے محبت انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حُب الوطنی (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس لیے فطرت انسانی کا ہر صحیح تقاضا بھی عین اسلام کا تقاضا ہے۔ مثال کے طور پر حدیث میں کہیں یہ نہیں آیا ہے کہ حب الام من الایمان (ماں کی محبت ایمان کا حصہ ہے)۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ہر مسلمان اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی ماں سے محبت ہو۔ جس آدمی کے دل میں اپنی ماں کی محبت نہ ہو، وہ اپنے ایمان میں بھی کامل نہ ہوگا کیونکہ فطرت اور ایمان میں کوئی تضاد نہیں۔

وطن سے محبت بھی بلا شبہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اسی طرح وہ انسان کے ایمان واسلام کا بھی تقاضا میں نے کہا کہ جو چیز فطرت انسانی کا جز ہو، اس کو قرآن وحدیث میں لکھنے کی ضرورت نہیں وہ قرآن وحدیث میں لکھے بغیر ہی شریعت کا ایک لازمی جز ہے۔ قرآن وحدیث میں یہ حکم نہیں دیا گیا

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page