Al-Risala · March 2020 · page 39

مادر وطن کہنا

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۹

ہوگا۔ البتہ ہر ایک کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور عقیدہ پسند کرتا ہو تو اس کو اپنے لیے اختیار کرلے۔

مادر وطن کہنا

ایک صاحب نے بذریعہ ای میل یہ سوال کیا کہ انڈیا کو مادر وطن کہنا جائز ہے، یا ناجائز۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مادر وطن کو جائز یا ناجائز کی اصطلاح میں بیان کرنا اس کو غیر ضروری طور پر شرعی مسئلہ بنانا ہے۔ یہ انتہا پسندی ہے کہ ہر چیز کو جائز یا ناجائز کا مسئلہ بنایا جائے۔ اس مزاج کو شریعت میں غلو کہا گیا ہے، اور قرآن وسنت میں غلو کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی وابصۃالاسدی رسول اللہ کے پاس آئے۔ وہ بہت سا سوال کرنا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہا: اِسْتَفْتِ قَلْبَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ بلکہ اپنی فطرت کی آواز کی پیروی کرو۔ جو لوگ انڈیا کو مادر وطن کہتے ہیں۔ وہ اس معنی میں نہیں کہتے کہ وہ اسی جغرافیہ کے بطن سے پیدا ہو کر نکلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استعارہ (metaphor) کی زبان ہے۔ اصل یہ ہے کہ مادر وطن سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں وطن مالوف، مسقط رأس، ہوم لینڈ (homeland)، مقام پیدائش (birth place)، جنم بھومی، وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگ مادر وطن کا لفظ اس معنی میں بولیں کہ وہ وطن کے پیٹ سے اسی طرح پیدا ہوئے ہیں، جس طرح کوئی شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہوگا، نہ کہ آپ کا معاملہ۔ آپ مادر وطن کا لفظ اپنے مفہوم میں بولیے۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ دیجیے کہ وہ کس معنی میں اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی زندگی کی ایک حکمت ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی حد (logical end) تک نہ پہنچایا جائے۔ مادر وطن (بھارت ماتا) کی اصطلاح انیسویں صدی کے آخری زمانے میں شروع کی گئی۔ یہ آزادی کی تحریک چلانے والے لیڈروں نے سیاسی مقصد کے تحت استعمال کیا تھا۔ اس اصطلاح کا کوئی مذہبی پس منظر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page