وطن سے محبت
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۳۸
کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماں سے محبت کرو۔ کیونکہ یہ چیز حکم کے بغیر اپنے آپ ہی فطرت کے زور پر حاصل تھی۔ اسی طرح قرآن وحدیث میں یہ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے محبت کرو۔ کیونکہ وطن سے محبت انسانی شرافت کا تقاضا ہے، وہ انسان ایک پست انسان ہے جس کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت نہ ہو۔ ایسے گہرے فطری تقاضے کے لیے شریعت میں کسی لفظی حکم کی ضرورت نہیں، وہ اپنے آپ ہر مومن کے دل میں پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔ یہاں ایک معاملے کی وضاحت ضروری ہے۔ بعض انتہا پسند لوگوں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان سچے محب وطن نہیں ہوسکتے۔ اس لیے کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس وطن یا اس جغرافی خطہ کو آدمی مقدس سمجھتا ہو، جہاں وہ پیدا ہوا ہے۔ ہندو چونکہ اپنے وطن (ماتر بھومی) کو مقدس سمجھتا ہے، اور اس کو معبود کا درجہ دیتا ہے۔ اس لیے وہی بھارت کا سچا محب وطن (دیش بھکت) ہے۔ عیسائی اور مسلمان چونکہ اپنے مخصوص عقیدے کی بنا پر زمین یا کسی زمینی خطے کو معبود کی طرح مقدس نہیں سمجھ سکتے، اسی لیے وہ بھارت کے سچے دیش بھکت بھی نہیں ہوسکتے۔ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے خود ساختہ عقیدے کی بنا پر اپنی ماں کو معبود مان لے، اور اس کی پرستش کرنے لگے، تو اس بنا پر اس کو یہ کہنے کا لائسنس نہیں مل جائے گا کہ اس کے سوا بقیہ لوگ اپنی ماں سے محبت نہیں کرتے، کیونکہ وہ اپنی ماں کو معبود نہیں سمجھتے۔ کسی شخص یا گروہ کو بلاشبہ یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود سمجھنے لگے۔ مگر کسی بھی قانون یا اصول کی بنا پر ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ دوسروں کے بارے میں یہ حکم لگائیں کہ وہ اپنی ماں کو یا اپنے وطن کو معبود مانیں، ورنہ وہ اپنی ماں سے محبت کرنے والے قرار پائیں گے، اور نہ اپنے وطن سے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات کا تعلق عالمی سطح پر مانے ہوئے رواج سے ہے، نہ کہ کسی شخص یا گروہ کے اپنے مفروضہ سے۔ عالمی اور بین اقوامی سطح پر جب یہ مان لیا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد وطن پر ہے، اور وطن سے مراد معروف معنوں میں جغرافی وحدت ہے، نہ کہ پر اسرار معنوں میں تقدیسی وحدت ۔ اس لیے حب الوطنی (patriotism) کا معیار ہر ایک کے لیے یہی
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues