Al-Risala · March 2020 · page 44

بے خبری کا کیس

الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۴۴

بے خبری کا کیس

آج کل جس مسلمان سے بات کیجیے، وہ ہمیشہ ایک ہی بات کو دہرائے گا، اور وہ مسلمانوں پر ظلم کی بات ہے۔ اگر ان سے مزید گفتگو کیجیے تو وہ اخباری نیوز کا حوالہ دیں گے۔ اخباری نیوز کیا ہیں، وہ یک طرفہ خبر رسانی کی مثالیں ہیں۔ قرآن کے مطابق، ایسی خبروں کو مان لینا درست نہیں ہے، بلکہ رائے بنانے سے پہلے غیر جانبدارانہ انداز میں ان کی تحقیق کرنا چاہیے۔ جو لوگ ظلم کی داستان سناتے ہیں، یا اسلامو فوبیا (Islamophobia) کی باتیں کرتے ہیں، ان سب پر قرآن کی یہ آیت صادق آتی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (49:6)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچادو، پھر تم کو اپنے کیے پر پچھتاناپڑے۔

اخبار (newspaper) یا میڈیا کیا ہے۔ میڈیا منتخب خبروں (selective news) کی انڈسٹری ہے۔ میڈیا کا کام نیوز کو فروخت (sell) کرنا ہے۔ اسی کو صحافت کی دنیا کہا جاتا ہے۔ میڈیا کو معلوم ہے کہ لوگ سنسنی خیز خبروں کو پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے میڈیا سنسنی خیز خبروں کو اکٹھا کر کے ان کو چھاپتا ہے۔ لوگوں میں انھیں خبروں کا چرچا ہوتا ہے، پھر لوگ اسی قسم کی خبروں کو لے کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ آج کل لوگوں کا حال یہ ہے کہ صحافت ان کے لیے ذہن سازی کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ لوگوں کی منفی سوچ کا سبب یہی ہے۔

لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ اس قسم کی خبروں کو ماننا، گویاسنی سنائی خبروں کو لے کر اپنا ذہن بنانا ہے۔ یہ بات عملاً ناممکن ہے کہ لوگوں کے درمیان اس قسم کی خبروں کا چرچانہ ہو۔ البتہ ایک ذمے دار انسان یہ کر سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قسم کی خبروں سے بچائے، وہ اخباری نیوز پر یقین نہ کرے، وہ خود اپنی سوچ کے مطابق اپنا ذہن بنائے۔ آپ اپنے آپ کو غیر متاثر ذہن کے ساتھ رہنا سیکھ لیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues

Printed page