جمہوریت کا نظام
الرسالہ، مارچ ۲۰۲۰، صفحہ ۴۵
جمہوریت کا نظام
جمہوریت (democracy) کے بارے میں اکثر لوگ منفی رائے رکھتے ہیں۔ اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ جمہوریت کا نظام ایک غلط نظام ہے۔ بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ لکھنے اور بولنے والے، جمہوریت کو غلط معیار (yardstick) سے ناپتے ہیں۔ حالاں کہ جمہوریت کو ایک معیاری نظام قرار دے کر اس کو آئیڈیل سے ناپنا بجائے خود غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت ایک قابلِ عمل نظام ہے، نہ کہ آئیڈیل نظام۔
کسی سماج میں سیاسی نظام قائم کرنا، ایک ایسا کام ہے، جو کبھی آئیڈیل پیمانے پر نہیں ہوسکتا۔ آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ آپ لوہے یا پتھر کا ایک پل (bridge) بنانے کے لیے اس کا ایک پیشگی نقشہ بنائیں، اور پھر ضروری سامان اکٹھا کر کے اپنے نقشے کے مطابق لوہے یا پتھر کا ایک پل بنائیں ۔ لیکن یہ ناممکن ہے کہ آپ لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ پل یا سڑک کے اوپر ہمیشہ ایک انداز سے سفر کریں، وہ کبھی اس سے گزرنے کے لیے غیر معیاری انداز اختیار نہ کریں۔ پل ہمیشہ مٹیریل کے ذریعے بنتا ہے، اور پل یا روڈ پر چلنے والے زندہ انسان ہوتے ہیں۔ آپ کوئی مادی عمارت مقررہ نقشے پر تعمیر کر سکتے ہیں، لیکن زندہ انسان کا ایک واحد نقشہ بنانا ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کا نظام پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول پر بنتا ہے، نہ کہ آئیڈیل وزڈم (ideal wisdom) کے اصول پر۔ جو چیز پریکٹیکل وزڈم پر بنائی جائے، اس کو آئیڈیل وزڈم کے معیار پر ناپنا اصولی طور پر ایک غلطی ہے۔ ایسی غلطی کبھی درست فیصلے تک پہنچانے والی نہیں۔
یہ دانش مندی ہے کہ جب آئیڈلزم (idealism) کا حصول ممکن نہ ہو، تو پریکٹیکل وزڈم کے اصول پر زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ ہمیشہ ناقد بنے رہیں گے۔ وہ نہ کبھی مثبت رائے تک پہنچیں گے، اور نہ کبھی مثبت انجام تک۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2020 All issues