Al-Risala · January 2020 · page 16

اس عہد پر قائم رکھے۔ “

الرسالہ، جنوری ۲۰۲۰، صفحہ ۱۶

ہے جو مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔

میں قرآن کی تفسیر مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ میں سیرت پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے علاوہ کئی ضروری موضوعات پر دینی کتابیں تیار کرنا ہے۔ یہی پیش نظر کام ہے، جو مجھے زندہ رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

شاید اللہ تعالیٰ کو بھی منظور ہے کہ میں یہ کام کروں۔ ورنہ لوگوں نے جتنا زیادہ مجھے پریشانی میں مبتلا کیا ہے، اس کے بعد میری راتوں کی نیند اڑ جانی چاہیے تھی۔ مگر یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ میرے ہوش پوری طرح باقی ہیں۔ رات کو مجھے وہ نیند آتی ہے جس کو sound sleep کہا جاتا ہے۔ اگر میری نیند خدانخواستہ اڑ جاتی ، تو اس کے بعد میں کوئی بھی علمی کام نہیں کر سکتا تھا۔ یا اللہ، مجھے بخش دیجیے، دنیا کا ستایا ہوا، آخرت میں نہ ستایا جائے۔

پاکستان کے سفر میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ یہ ایک مشہور شخصیت ہیں، اور پاکستان میں غلبہ اسلام کی تحریک چلا رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ پاکستان میں غیر مسلم (ہندو اور عیسائی) قابلِ لحاظ تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے درمیان کوئی تبلیغِ اسلام کی تحریک چل رہی ہے۔ میرا یہ سوال سن کر وہ مسکرائے اور پھر کہا: یہاں غیر مسلموں کی فکر کون کرتا ہے۔ مجھے ان کے اس جواب سے بہت دھکا لگا۔ میرے لیے یہ تجربہ بڑا اندوہ ناک تھا کہ جو لوگ غلبہ اسلام کی باتیں کرتے ہیں، ان کو صرف اسلام کے سیاسی غلبہ سے دلچسپی ہے۔ خدا کے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کی انھیں کوئی فکر نہیں۔ میرا قطعی یقین ہے کہ غلبہ اسلام کی بات کو اگر دعوت اسلام سے الگ کر دیا جائے تو وہ صرف ایک قومی نعرہ بن جاتا ہے۔ دعوتِ اسلام سے الگ کرنے کے بعد غلبہ اسلام کے نعرے کی کوئی حقیقت نہیں۔

اس قسم کی تحریک عین وہی ہے، جو یہودیوں کے اندر چل رہی ہے۔ یہودیوں کی تحریک صہیو نیت (Zionism) گویا حضرت موسیٰ کے دین سے ہدایت کو الگ کر کے صرف سیاست کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2020 All issues

Printed page