Read
Al-Risala, January 2020
- p. 2 پت جھڑ کا سبق— تمھارا خدا آکسیجن کی مسلسل
- p. 3 زیر سرپرستی مولاناوحیدالدین خاں صدر اسلامی مرکز خصوصی شماره
- p. 4 میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا ایک مضمون لکھ
- p. 5 انکار خدا کا مطلب پیدا کیا۔ حالاں کہ یہ
- p. 6 24 کروڑ سال میں پورا کرتا ہے۔ یعنی سورج
- p. 7 شمس فی القرحتی إذا ما ذكت الشعری فبرد وظل
- p. 8 لعظ
- p. 9 پھیلتی ہوئی کائنات (expanding universe) ہے۔ انسانی علم کی
- p. 10 ریڈ برش [1878-1949] Gustav Radbruch) اور اس کے ساتھیوں
- p. 11 اسی طرح قرآن میں ہے : فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ
- p. 12 ہورہے ہیں۔ آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور ڈال
- p. 13 نے جواب دیا کہ وہ (پیدائشی) اتفاق کی بنا
- p. 14 اسی طرح دوسرے مذاہب میں عبادتی مراسم (rituals) کی
- p. 15 اس عہد پر قائم رکھے۔ “
- p. 16 ہے جو مجھے زندہ رکھے ہوئے ہے۔
- p. 17 لے لینا ہے۔ اسی طرح مسلمانوں میں جو لوگ
- p. 18 موجودہ زمانہ کی دو بنیادی خرابیاں ہیں جنھوں نے
- p. 19 وجہ سے غیر ضروری قسم کی غلط فہمیاں پیدا
- p. 20 کے مقابلہ میں ”مشرک“ لیڈر کو ماننے میں کسی
- p. 21 All roads lead to Rome
- p. 22 کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں
- p. 23 چہ حاجت کہ نہ کرسی آسمان
- p. 24 جگہ سے کٹا ہوا ہو، اور اس کی جڑیں
- p. 25 ہونے دیتا۔ مثال کے طور پر ان مدارس میں
- p. 26 بزرگی کے اعتراف میں اپنی روشنی پیش کر دی
- p. 27 لماذا تاخر المسلمون وتقدم غيرهم
- p. 28 ليس الفتى من يقول كان أبى ولكن الفتى من
- p. 29 کہ ان کی اس قسم کی باتیں اسلام کو
- p. 30 امکانات میں کھویا رہتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کو
- p. 31 اللہ ایک ایسا لفظ ہے جس کی جمع نہیں۔
- p. 32 کا کوئی حصہ اترتا، تو اسی وقت فورا اس
- p. 33 ہٹایا تو معلوم ہوا کہ جو کھانا وہ لے
- p. 34 اکثر یہ صورت پیش آتی تھی کہ رسول اللہ
- p. 35 صحابی رسول بشیر بن خصاصیہ کا واقعہ ہے کہ
- p. 36 تھا۔ اس کے بعد حضرت سلیمان نے اسی پہاڑ
- p. 37 کہا جاتا ہے۔ یہیں سے افغانستان میں باقاعدہ روسی
- p. 38 بز دلی کی بنا پر نہ تھی ، بلکہ
- p. 39 اس کی وجہ ایک تنقید اور دوسری تنقید کا
- p. 40 World Inflation
- p. 41 انسائیکلو پیڈیا کو دیکھا تو تینوں میں مختلف بیانات
- p. 42 (Preceding) ہو چکا ہے
- p. 43 ہوں، اس کا مطلب ہے کسی لیڈر کا اپنی
- p. 44 سائنٹسٹ خارجی حقیقت کا مطالعہ کرتا ہے، اور اس
- p. 45 صلاحیت تھی۔ وہ 1893 میں ہندوستان آئیں، اور یہاں
- p. 46 (اڑیسہ) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ایک اڑیا
- p. 47 Hitting the nail on the head.
- p. 48 یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ زندگی میں ایسے مواقع
- p. 49 وأحياناً على بكرأخينا إذا ما لم نجد إلا أخانا
- p. 50 کسی شخص کا قول ہے کہ غم پیچھے کی