مطالعہ قرآن کا مہینہ
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۵
(soil) سے غذا (food) کا نکلنا ، بارش کا برسنا ، وغیرہ۔
یہ سب وہ عطیات (نعمتیں) ہیں ، جو رات دن انسان کو خود بخود ملتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ نعمتیں چونکہ یک طرفہ طور (unilateral) پر سپلائی کی جارہی ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان اس کو فار گرانٹیڈ (for granted) لے لیتا ہے ، اور جو اعتراف (acknowledgement) مطلوب ہے ، اس کو وہ کر نہیں پاتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ انسان لپ سروس کے طور پر الحمد للہ، وغیرہ زبان سے ادا کر دیتا ہے۔ گہرے سنس میں انسان ان نعمتوں کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ روزہ ایک ریگرس (rigorous) ٹریننگ ہے، تا کہ انسان جس چیز کو فار گرانٹیڈ لیے ہوئے ہے، اس کو وہ خالق کے عطیے کے طور پر ڈسکور کرے۔ روزے کی یہ اسپرٹ رسول اللہ کے اس واقعے میں ملتی ہے۔ حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ رسول اللہ روزہ رکھ کر جب شام کو افطار کرتے، تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے تھے: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 2357)۔ یعنی پیاس بجھ گئی، رگیں تر ہو گئیں ، اور اجر ثابت ہو گیا ان شاء اللہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ کو evaluate کرنے کا تخلیقی (creative) طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی کے اندر انعامات الہی کے احساس کا طوفان برپا ہو جائے ، روزہ رکھ کر آدمی کے اندر وہ زندہ احساس پیدا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔ ورنہ روزہ ایک رسم ہے، جس کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں ہے، اور نہ آخرت میں۔ ☆☆☆☆☆☆☆ سائنسی مطالعے کے مطابق، تقریباً تیرہ بلین سال پہلے بگ بینگ کے ذریعے موجودہ دنیا کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ یہ ستاروں اور کہکشاؤں سے بھری ہوئی ایک وسیع کائنات تھی۔ اس کائنات میں ملکی وے کے اندر وہ دنیا تھی، جس کو ہم سولر سسٹم نام سے جانتے ہیں۔ اسی شمسی نظام کے ایک سیارہ زمین پر انسان آباد ہے۔ یہ ایک پوری طرح کسٹم میڈ ورلڈ ہے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ انسان اس زمین پر بسہولت آباد ہو، اور یہاں آزادی کے ساتھ اپنی ایک تہذیب بنائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues