Al-Risala · April 2020 · page 6

مطالعہ قرآن کا مہینہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۶

ایک تجربہ

میں نے 1999 میں مانچسٹر (انگلینڈ) کا سفر کیا۔ اس سفر میں میں نے چند دن ایک نوجوان عرب میزبان العارف احمد کے یہاں قیام کیا تھا۔ وہ وہاں رفیوجی (asylum) کی حیثیت سے ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں رہتے ہوئے ایک واقعہ میرے ساتھ پیش آیا۔ یہ واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے: جمعرات کی صبح، 17 جون 1999 کا دن تھا۔ میں مانچسٹر میں میزبان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا۔ جب میں بالائی منزل کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا تھا، تو میں نے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک سنی۔ میں نے دروازہ کھولا تو مجھے تقریباً پانچ سال کی عمر کی ایک بچی کھڑی دکھائی دی۔ یہ برادر العارف کی بڑی بیٹی، قانتہ تھی۔ اس نے انتہائی معصومیت سے پوچھا: تريد حاجة (آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے)۔ اگرچہ یہ ایک معمولی قسم کا سوال تھا، لیکن میں اس معصوم آواز سے اوور وِلم (overwhelm) ہو گیا۔ اس قدر اوور وِلم ہو گیا کہ جواب میں میں اپنی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکا۔ بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ تھا۔ لیکن میرے ذہن میں یہ ایک عظیم واقعے (supernatural event) میں کنورٹ ہو گیا۔ چنانچہ اس بچی کی معصوم آواز سن کر مجھے ایسا لگا جیسے خدا نے گویا میرے پاس ایک فرشتہ بھیجا ہے، تا کہ وہ میری ضروریات کو دریافت کرے، اور اسے پورا کرے۔ اسی لمحے ایک حدیث میرے ذہن میں آئی: رب العالمین روزانہ آسمان دنیا پر آتا ہے، اور پکارتا ہے: کیا کوئی ہے جو محتاج ہو، اور مجھ سے مانگے، تو میں اسے عطا کروں؟ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1145) ’’کیا آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے؟ ‘‘، ایک چھوٹا سا سوال تھا جو ایک معصوم بچی نے پوچھا تھا۔ لیکن میرے اندرونی وجود میں ایک بہت بڑا انقلاب برپا کرنے کے لیے یہ سوال کافی تھا۔ وہ انقلاب جسے جدید ٹرم میں برین اسٹارمنگ (brainstorming) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے میں نے محسوس کیا کہ کائنات کی تمام چیزیں میرے مائنڈ کی اسکرین پر موجود ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا روحانی تجربہ تھا، جس کا اظہار انسانی الفاظ میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ابتدا

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page