اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۵
اخلاق، محفوظ انسانی سفر کا ضامن
انسانی سماج کو ایک بہتر سماج بنانے کے لیے جو تعمیری اصول ہیں، انھیں اصولوں کو اخلاقی اقدار (moral values) کہا جاتا ہے۔ ان اخلاقی اقدار کو اختیار کرنے سے انسانی سماج بہتر سماج بنتا ہے، اور ان کو چھوڑنے سے انسانی سماج برباد ہو کر رہ جاتا ہے۔ سماج کو اگر ٹرین سے تشبیہ دی جائے تو اخلاقی اقدار گویا ریل کی وہ پٹریاں ہیں، جن کے اوپر سماجی ٹرین بھٹکے بغیر اپنا سفر کامیابی کے ساتھ طے کرتی ہے۔
یہ اخلاقی اقدار بنیادی طور پر یہ ہیں—امن، انصاف، محبت، سچائی، رواداری، خیر خواہی، عدم تشدد، صبر، تواضع، عالمی اخوت اور اخلاقی سلوک، وغیرہ۔ یہ اخلاقی اقدار اتنے زیادہ مسلم ہیں کہ تمام مذہبی اور روحانی نظاموں میں یکساں طور پر ان کی خصوصی تعلیم دی گئی ہے، اور ان کو انسانی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔
اقدار کا یہی مجموعہ ہے، جس کو اخلاق کہا جاتا ہے۔ یہی اخلاقی اصول انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت بناتے ہیں۔ انھیں اخلاقی اصولوں کی پیروی سے کوئی سماج بہتر سماج بنتا ہے۔ انھیں اخلاقی اصولوں کی پیروی سے وہ سماجی مقاصد حاصل ہوتے ہیں، جن کو ہم انسانیت کی فلاح کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔
خدا نے ان اقدار کو انسان کی فطرت میں اخلاقی حس (moral sense) کے طور پر ودیعت کر دیا ہے۔ ہر انسان ان اخلاقی اصولوں کا شعور پیدائشی طور پر رکھتا ہے۔ تمام مذہبی اور روحانی نظام اس کی تلقین کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ خدا نے کائنات کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے گویا ایک اخلاقی ماڈل بن گئی ہیں۔ جو چیز انسان کو خود اپنے ارادے کے تحت عمل میں لانا ہے، وہ چیز بقیہ کائنات میں خدا کے براہ راست کنٹرول کے تحت زیر عمل آ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور کائنات دونوں کا اخلاقی نظام ایک ہے۔ بقیہ کائنات میں اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues