انذار، تائید
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۴
انذار، تائید
قرآن میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: یَاأَیُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰہَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ (47:7)۔ یعنی اے ایمان والو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدموں کو جما دے گا۔ قرآن کی اس آیت میں ایک فطری حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا کو اللہ نے ایک منصوبے کے تحت بنایا ہے۔ جو آدمی اس منصوبے کے تحت اپنی زندگی کا نقشہ بنائے، وہ کامیاب ہوگا، اور جو آدمی اس منصوبۂ الہی سے بے خبر رہے، اور اس کے مطابق اپنا منصوبہ نہ بنا سکے، وہ ناکام ہو کر رہ جائے گا۔
اللہ رب العالمین کا یہ منصوبہ کیا ہے، وہ قرآن و حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک مفسر نے قرآن کو کتاب انذار بتایا ہے۔ انذار کا مطلب ڈرانا نہیں ہے، بلکہ باخبر کرنا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے اپنے نبیوں کو منذر بنا کر بھیجا بھیجا(النساء، 4:165)۔ یعنی نبیوں کے ذریعے انسان کو باخبر کر دیا کہ انسان کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس منصوبے کو جانے، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی پلاننگ کرے۔
اس معاملے میں دوسری اہم بات حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ حدیث کی اکثر کتابوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اس دین کی تائید (support) غیر اہل اسلام کے ذریعے کرے گا (مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ ان احادیث میں تائیدِ دین کا لفظ آیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ قرآن سے آئیڈیالوجی دریافت کرے، اور تائید کے معاملے میں کسی تفریق کے بغیر ہر گروہ سے تائیدی ذرائع دریافت کرے، اور ان کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔
مثلاً آئیڈیالوجی کو قرآن کے مطالعے سے معلوم کرنا، اور کمیونی کیشن کے ذرائع کو سیکولر لوگوں سے لینا، اور ان کو اپنے منصوبوں میں استعمال کرنا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues