فطرت کا قانون
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۱۹
فطرت کا قانون
انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے غیر معمولی صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایپک صلاحیت یہ ہے۔ اپنی نااہلی کو اہلیت میں کنورٹ کرنا، اپنے نہ ہونے کو ہونا بنانا۔ مثلاً کوئی آدمی اگر دیکھنے یا سننے کی صلاحیت کھودے، تو اس کی فطرت کے اندر ایک نیا عنصر جاگتا ہے۔ جو اس کو زیادہ سوچنے والا انسان بنا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنی نااہلیت کو اہلیت میں تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی ایک تاریخی مثال معروف انگریزی شاعر جان ملٹن (1674-1608) کی ہے۔ وہ 44 سال کی عمر میں بالکل اندھا (completely blind) ہو گیا تھا۔ مگر اس نااہلی نے اس کے اندر ایک نئی اعلیٰ صلاحیت پیدا کر دی۔ وہ تھی تخیل (imagination) کی غیر معمولی صلاحیت۔ اب وہ لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا، لیکن اس نے املا (dictation) کی مدد سے ایک ماسٹر پیس ایک (masterpiece epic)، پیراڈائز لاسٹ (Paradise Lost) تیار کیا۔ اس کی اہمیت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے: The greatest epic poem in the English language...a work of unparalleled imaginative genius that shapes English literature even now. (www.bbc.com, Why You should Read the Paradise Lost, by Benjamin Ramm, 19 April 2017)
جدید دور میں جو چیزیں دریافت ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے اندر کچھ مخفی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ اہلیت سے بظاہر محروم لوگوں کے اندر اہلیت کے نئے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ زمانے میں ایک مستقل شعبہ بن گیا ہے کہ انسان کی چھپی ہوئی صلاحیت کو استعمال میں لایا جائے، یعنی ڈس ایبلڈ کوڈ فریٹلی ایبلڈ بنانا۔ موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں میں ایسے لوگوں کے لیے خصوصی انتظام ہوتا ہے۔
فطرت کے اس عطیے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ایسے عورتوں یا مردوں کے اندر اضافی محرک (additional incentive) فطری طور پر پیدا کر دیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کی بہترین مدد یہ ہے
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues