Al-Risala · April 2020 · page 20

فطرت کا قانون

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۰

کہ ان کی اس چھپی ہوئی صلاحیت کو انھیں یاد دلایا جائے۔ ان کے اندر یہ شعور جگایا جائے کہ وہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیت کو تربیت دیں، اور اپنی بظاہر ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر لیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر انجام دیا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں اور دوسرے اداروں میں ایسے تربیتی کورس چلائے جاتے ہیں، جن میں ہر پہلو سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ ڈس ایبلڈ پرسن (disabled person) کو ایبلڈ پرسن بنایا جائے۔ انڈیا کے تعلیمی اداروں میں بھی ایسے شعبے قائم کیے گئے ہیں، جو فطری طور پر معذور لوگوں کے لیے ان کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بیدار کریں، اور بظاہر معذور لوگوں کو غیر معذور بنائیں۔ قرآن میں فطرت کے اس پہلو کو دو مقام پر بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک مقام پر یہ آیت ہے: وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (51:19) یعنی اور ان کے مال میں سائل اور محروم کا حصہ ہے۔ دوسرے مقام پر یہ آیتیں ہیں: وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (70:24-25) یعنی اور جن کے مالوں میں متعین حق ہے، سائل اور محروم کا۔ حدیث میں اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فَقَرَائِهِمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1496) ۔ ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا، اور ان کے بے مال لوگوں کی طرف لوٹایا جائے گا۔

وسیع تر انطباق کے اعتبار سے، ان آیات اور حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اندر اس قسم کی جو تعلیمات ہیں، ان کا مقصد یہ نہیں ہے کہ سماج میں مستقل طور پر دو قسم کے گروہ پیدا کیے جائیں، ایک محتاج لوگوں کا گروہ، اور دوسرا محتاج لوگوں کی مدد کرنے والا گروہ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے نظام میں ایسا بار بار ہوتا ہے کہ کچھ لوگ فطری طور پر یا سماجی حالات کی بنا پر بظاہر معذور بن جاتے ہیں۔ اب سماج کا یا سماجی اداروں کا یہ کام ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعے ایسے لوگوں کی اپ لفٹ (uplift) کا انتظام کریں، ان کو معذور کے درجے سے اٹھا کر غیر معذور کے درجے میں شامل کریں۔ موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اہلِ اسلام کو چاہیے کہ وہ ان کوششوں کو جانیں، اور ان کو اپنے سماجی نظام میں شامل کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page