Al-Risala · April 2020 · page 22

کام کیا ہے

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۲

کام کیا ہے

کام کیا ہے۔ کام نام ہے ممکن مواقع کو اپنے لیے اویل کرنا۔ یعنی حالات کو پڑھ کر اپنے لیے نقشہ بنانا، اور اس کے لحاظ سے کام کرنا۔ رسول اللہ کی زندگی سے یہی معلوم ہوتا ہے۔ جب آپ مکہ میں رہے، تو مکہ کے لحاظ سے کام کیا، اور جب مدینہ گئے تو مدینہ کے لحاظ سے کام کیا۔ مثلاً آپ نے مکہ میں تیرہ سال تک مشن کا کام کیا۔ مگر آپ نے مکہ میں بتوں کو نہیں توڑا، اور نہ ہی ان بتوں کے خلاف کوئی بیان بازی کی۔ اس کے برعکس، آپ نے یہ کیا کہ بتوں کی زیارت کے لیے آنے والے آڈینَس (audience) کو دعوت دی۔ یعنی آپ کو یہ سمجھ میں آیا کہ مکہ میں دعوت کے کام کا موقع ہے، لیکن کعبہ سے بتوں کو ہٹانا قابل عمل نہیں ہے۔ اس لیے آپ نے وقتی طور پر ان بتوں کو اپنے حال پر باقی رکھا، اور بتوں کی زیارت کے لیے تمام عرب سے آنے والے آڈینَس کے درمیان دعوت کا کام جاری رکھا۔

دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں ہر صورت حال میں کام کے مواقع موجود رہتے ہیں (الانشراح، 6-5: 94)۔ لوگ اکثر مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر صورت حال میں کام کے مواقع تلاش کیے جائیں۔ ہر صورت حال میں مواقع (opportunities) کی بنیاد پر اپنے کام کی منصوبہ بندی کی جائے۔ مواقع کو تلاش کرنا، اور مواقع کی بنیاد پر اپنے عمل کا نقشہ بنانا، دانش مندانہ طریقہ ہے۔ یہ دنیا اسباب کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں وہی منصوبہ کامیاب ہوتا ہے، جو اسباب کی رعایت کرتے ہوئے بنایا جائے۔

اس دنیا میں منصوبہ بند کام کا نام کام ہے۔ جو کام غیر منصوبہ بند انداز میں کیا جائے، وہ اپنے انجام کے اعتبار سے کوئی کام ہی نہیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ آپ کا کوئی اقدام عملاً بے نتیجہ رہ جائے، تو ہر گز کسی دوسرے کو الزام نہ دیجیے، بلکہ خود اپنے منصوبے کی خامی تلاش کیجیے۔ اپنے منصوبے کی خامی کو درست کر کے آپ دوبارہ کامیابی تک پہنچ سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page