فرقہ بندی کیا ہے
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۳
فرقہ بندی کیا ہے
فرقہ بندی دراصل غلو کا نام ہے۔ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے، نہ کہ پرابلم۔ اس دنیا میں غیر اختلافی سماج نہیں بن سکتا۔ اس لحاظ سے اختلاف بذات خود کوئی مسئلہ نہیں۔ اختلاف صحت مند سوچ کی علامت ہے۔ زندہ لوگوں میں اختلاف ایک امر فطری ہے۔ لیکن اختلاف کو ڈانلاگ کی حد میں رہنا چاہیے۔ اختلاف کو نزاع کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، جو کہ فرقہ بندی کا سبب ہوتا ہے۔ اختلاف (difference) کے معاملے میں ہمیشہ دو طریقے ہوتے ہیں— غلو کا طریقہ، ٹالرنس کا طریقہ۔ غلو کا طریقہ یہ ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ مختلف مسالک فکر کے درمیان ایک ہی طریقہ صحیح ہے، دوسرے تمام طریقے غلط ہیں، ان کو ختم ہو جانا چاہیے۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ رواداری یا وسعت نظری کا طریقہ ہے، یعنی یہ سمجھنا کہ جو اختلاف ہے، وہ تنوع (diversity) کا معاملہ ہے۔ جس کا عملی فارمولا اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے— ایک کی پیروی، سب کا احترام: Follow one, respect all فقہی اختلاف کی بنیاد پر جو فرقے بنے ہیں، ان کا سبب یہی غلو(extremism) ہے۔ اختلاف اس وقت برائی بنتا ہے، جب کہ وہ غلو کی وجہ سے تفرق کا سبب بن جائے۔ قرآن میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: مِنْ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (30:32)۔ یعنی جنھوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر لیا، اور بہت سے گروہ ہو گئے۔ ہر گروہ اس میں مگن ہے، جو اس کے پاس ہے۔
اس معاملے کو سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے، تو وہ یہ ہوگا کہ اختلافات جس سے تفریق پیدا ہوتی ہے، وہ زیادہ جزئی معاملات میں ہوتے ہیں۔ جزئی معاملات میں صحیح طریقہ ہے: میرا مسلک بھی درست ہے، اور تمھا را مسلک بھی درست۔ جب طرفین کے درمیان یہ مزاج ہو، تو دونوں فریق ایک دوسرے کوٹالریٹ (tolerate) کرنے کا مسئلہ سمجھیں گے، نہ کہ حق اور ناحق کا مسئلہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues