Al-Risala · April 2020 · page 25

ایک مسنون دعا

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۵

ایک مسنون دعا

پیغمبر اسلام کی ایک دعا حدیث کی کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک جزء یہ ہے : اَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ ... مِنْ خَلِيلٍ مَاكِرٍ عَيْنُهُ تَرَانِي وَقَلْبُهُ تَرْعَانِي إِنْ رَأَى حَسَنَةً دَفَنَهَا، وَإِذَا رَأَى سَيِّئَةً أَذَاعَهَا (الدعاء للطبرانی، حدیث نمبر 1339)۔ یعنی اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں چالاک دوست سے جس کی آنکھیں مجھ کو دیکھتی ہوں، اور اس کا دل میرے خلاف سوچتا ہو۔ اگر وہ کسی اچھائی کو دیکھے تو اس کو دفن کر دے، اور اگر وہ کسی برائی کو دیکھے تو اس کو پھیلا دے۔

اس حدیث میںخَلِیل مَاکِر(چالاک (چالاک دوست) سے مراد منافق انسان ہے۔ علامہ المناوی (وفات 1621ء) نے اس کی شرح ان الفاظ میں کی ہے: انسان يظهر المحبة والوداد وهو في باطن الأمر محتال مخادع (فيض القدیر، جلد 2، صفحہ 145)۔ یعنی وہ انسان جو محبت اور تعلق کا اظہار کرے، حالانکہ اندرونی طور پر وہ فریبی اور دھوکہ دینے والا ہو۔ منافق انسان کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ بظاہر کسی کا دوست بنتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ اس کا دوست نہیں ہوتا۔ اپنے دہرے کردار (double standard) والے مزاج کی بنا پر وہ ایسا کرتا ہے کہ جب وہ کسی شخص سے قریب ہوتا ہے تو بظاہر وہ اس کے موافق بات کہتا ہے، لیکن عین اُسی وقت اس کا ذہن اس کے خلاف سوچتا ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ایسے انسان سے بچے، وہ اس کی بظاہر خوشنما باتوں سے دھوکہ نہ کھائے۔ ایسے انسان کی سب سے زیادہ تباہ کن عادت یہ ہوتی ہے کہ جھوٹی بات کرنا اس کے لیے محبوب بن جاتا ہے۔ اگر وہ کسی کے بارے میں بظاہر کوئی غلط بات سنے، تو وہ خوب عیب زنی کرے گا۔ اس کے برعکس، اگر اس کو کوئی اچھی بات ملے تو اس کو لوگوں سے بیان کرنا اس کو پسند نہیں آئے گا۔ اس کے مقابلے میں دوسرا انسان وہ ہے، جو دوسروں کا خیر خواہ ہوگا۔ وہ بولے گا تو وہی بات بولے گا، جو اس کے دل میں ہے۔ وہ کسی انسان کی اچھی بات کا چرچا کرے گا، ورنہ وہ اس کے بارے میں خاموش رہے گا۔ ان میں سے پہلا کردار غیر ربانی کردار ہے، اور دوسرا کردار ربانی کردار۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page