Al-Risala · April 2020 · page 24

فطرت کی قربانی

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۴

فطرت کی قربانی

قربانی کی ایک صورت وہ ہے، جب کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں مال دینا پڑے۔ اسی طرح قربانی کی ایک اور صورت یہ ہے کہ آدمی کو اللہ کے راستے میں جسمانی مصیبت اٹھانی پڑے۔ یہ بلا شبہ قربانی کی صورتیں ہیں۔ لیکن ایک قربانی وہ ہے، جب کہ آدمی کو اپنے فطری تقاضوں پر روک لگانا پڑے۔ اس کے فطری تقاضے پورے نہ ہوں، اس کے باوجود اللہ کی راہ میں اس کی استقامت پر فرق نہ آئے۔ اس کی فطری ضرورتیں پوری نہ ہوں۔ مگر وہ کسی شکایت کے بغیر اس کو بخوشی برداشت کر لے۔ اللہ کی راہ میں اس کو اپنے فطری تقاضوں کو دباناپڑے۔ مگر وہ اس کو رضامندی کے ساتھ گوارا کر لے۔ قربانی کی یہ قسم ایک غیر معمولی قربانی ہے۔ ایسی قربانی کو جھیلنا، بلا شبہ ایک سخت مشکل کام ہے۔ لیکن کوئی بندہ اللہ کی راہ میں جب اپنی رضامندی سے ایسی قربانی کو برداشت کرے، تو اس پر اس کو بلا شبہ اجر عظیم عطا ہوگا۔ ایسی قربانی کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے، جب کہ اللہ کی راہ میں آدمی کو اپنا ایک رول ادا کرنا ہو۔ لیکن اس رول کو ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سادہ زندگی (simple living) گزارے۔ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرے۔ اپنی فطرت کے مانگ کو پورا نہ کرنے پر راضی ہو جائے۔ اسلام کی تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں، اور ایسے ہی لوگوں نے اپنے عمل سے اسلام کی عظیم تاریخ بنائی ہے۔

انھیں قربانیوں میں سے ایک قربانی رائے کی قربانی ہے۔ قربانی کی یہ قسم اجتماعی زندگی میں پیش آتی ہے۔ مثلاً آپ ایک مشن کے تحت ایک گروپ میں شامل ہیں۔ گروپ کے درمیان مشورے کے وقت مختلف تجاویز سامنے آتی ہیں۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ ان میں سے ایک رائے کو لیا جائے، اور بقیہ رائے کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ایسے موقعے پر جو آدمی اجتماعی تقاضے کے تحت اپنی رائے کو ترک کرنے پر راضی ہو جائے، اس نے بلا شبہ ایک بڑی قربانی دی۔ کیوں کہ رائے ترک کرنے کے لیے آدمی کو اپنے ایگو کو قربان کرنا پڑتا ہے، اور ایگو کی قربانی بلا شبہ بہت بڑی قربانی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page