Al-Risala · April 2020 · page 29

نئے عہد کے دروازے پر

الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۲۹

ایسے تھے، جو فورا بخارات میں تبدیل ہو گئے، اور کئی میل دور تک مکانات دھماکے سے گر پڑے۔ یہ 10 سال پہلے کی بات تھی۔ اب اس طاقت سے جو بم بنائے گئے ہیں، وہ اور بھی زیادہ ہولناک ہیں۔ امریکا کی ایک تازہ ترین اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ان بموں کو اگر کوبالٹ (Cobalt) کے خول میں رکھ کر داغا جائے، تو اس سے نہایت طاقت ور ریڈیائی لہروں (radioactive) والا بادل پیدا ہوگا۔ یہ بادل ہوا کے ساتھ ساتھ ہزاروں میل تک پھیل جائے گا، اور ان کے تباہ کن اثرات سے کوئی جان دار چیز بچ نہ سکے گی۔

ایٹمی سائنس کے ماہر پروفیسر براؤن (Prof. Brown) نے کہا ہے کہ اگر اتحادیوں نے روس اور چیکوسلوواکیہ (Czechoslovakia / Czech Republic) کی سرحد پر کوبالٹ بم گرایا تو ڈیڑھ ہزار میل چوڑے اور تین ہزار میل لمبے علاقے میں کوئی ذی روح باقی نہ رہے۔ لینن گراڈ (Lenin Grade) سے لے کر بحیرہ اسود کے شمال مغربی ساحل پر واقع اوڈیسا (Odessa) تک ، اور پراگ (Prague) سے کوہ یورال (Ural) تک موت کا سناٹا چھا جائے گا۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر لیوس لارڈ (Prof. Lewis Lord) نے بتایا کہ ایک ٹن والے چار سو کوبالٹ بم کے پھٹنے سے پوری زمین پر زندگی کا نام ونشان مٹ جائے گا، اور صدیوں تک دنیا غیر آباد رہے گی۔ تیسری عالمی جنگ آج اسی طرح کے ایک خوفناک امکان کی حیثیت سے دنیا کے سر پر کھڑی ہے، اور اگر یہ جنگ ہوئی تو بقول ڈاکٹر رادھا کرشنن (وفات 1975) ”یہ روس اور امریکا کی جنگ نہیں ہوگی، بلکہ دنیا کے عدم اور وجود کی جنگ ہوگی۔ “ یہ وقت کا اہم ترین مسئلہ ہے، جس کا حل سوچنے میں دنیا کے بڑے بڑے لوگ لگے ہوئے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ تمام ایٹم بم سمندروں میں ڈال دیے جائیں۔ مگر ظاہر ہے کہ جو لوگ کروروں اور اربوں نہیں بلکہ کھر ہوں روپے خرچ کر کے یہ خطرناک ہتھیار بنا رہے ہیں، وہ کیا محض اتنا کہہ دینے سے انھیں سمندر میں پھینک دیں گے۔ کوئی کہتا ہے کہ عالمی حکومت قائم کرو۔ مگر دنیا کی مختلف قومیں جو ایک دوسرے کی دشمن ہورہی ہیں، کیا ان کو ملا کر کوئی بین الاقوامی حکومت (international state) قائم کی جاسکتی

‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues

Printed page