نئے عہد کے دروازے پر
الرسالہ، اپریل ۲۰۲۰، صفحہ ۳۰
ہے۔ کوئی شخص بقائے باہم (co-existence) کا اصول پیش کرتا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں باہم مل کر رہنے کا نظریہ صرف روس اور چین کے لیے قابل قبول ہے، جو اشتراکی جماعتوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنا جال بچھائے ہوئے ہیں، اور اپنے توسیعی ارادوں (programme of expansion) کے لیے جنگ سے زیادہ امن کے موسم کو مفید خیال کرتے ہیں۔ امریکا اور دوسرے جمہوری ممالک اس کو کسی طرح گوارا نہیں کر سکتے۔ کوئی صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا کو امن اور جنگ میں سے ایک راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ دو میں سے کوئی ایک ہی راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مگر آپ وہ کون سا اصول پیش کر رہے ہیں، جس سے دنیا تباہی کے بجائے امن کی راہ اپنائے۔ سوچئے! کیا اس طرح کی باتیں حالات کو درست کر سکتی ہیں۔ دنیا سائنس کی حیرت انگیز دریافتوں سے زندگی حاصل کرنے کے بجائے خودکشی کا سامان تیار کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ کیا یہ محض اس لیے ہے کہ اب تک کسی نے اس کے سامنے مذکورہ بالا قسم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی تھی۔ اگر کوئی شخص ایسا سمجھتا ہے، تو وہ بہت بڑے دھوکے میں مبتلا ہے۔
یہ خوفناک صورت حال جو دنیا میں پیدا ہوگئی ہے، اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ آدمی ایک صحیح آئیڈیالوجی کے بغیر زندگی گزار رہا ہے۔ اس کو لوہے اور بجلی کی سائنس تو آگئی۔ اس نے وہ علم تو حاصل کر لیا، جس سے وہ مادے (matter) کے جوہر (atom) کو پھاڑ سکے، مگر خود اپنی سائنس سے وہ اب تک محروم ہے۔ سمندروں میں تیرنا اور فضا میں اڑنا اس نے سیکھ لیا، مگر وہ فن (art) اس نے نہیں جانا، جس سے زندگی کی گاڑی چلا کرتی ہے، جس سے انسانی کوششوں کا رُخ متعین ہوتا ہے، جو ایک انسان اور دوسرے انسان، ایک قوم اور دوسری قوم کے درمیان حقوق وفرائض کا صحیح تعین کرتے ہیں۔ انسان نے اتنی بڑی بڑی دوربینیں (telescopes) ایجاد کیں، جن کا حال یہ ہے کہ وہ 18 ہزار میل کے فاصلے پر جلتی ہوئی ایک موم بتی کو بھی دیکھ لیتی ہیں۔ مگر خود انسان کیا ہے، اور دنیا کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کو وہ اب تک نہ جان سکا۔
اس نے ایسی حسابی مشین (Eniac) بنائی، جو گھٹانے اور جوڑنے کے 10 ملین سوالات
‹ Previous page Next page › Contents of April 2020 All issues